30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ گناہ تو ترک سنت کا ہوا،اور تعدی تین سے زیادہ کرنے پر کیونکہ دھونے کی حدتین بار ہے اور ظلم اپنی جان پر کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی،پانی میں اسراف کیا،اپنے نفس پر بے فائدہ مشقت ڈالی جو کوئی تین سے زیادہ کو سنت سمجھ لے تو اس کا اعتقاد بھی غلط ہوا۔بہرحال تین سے کمی ہوسکتی ہے زیادتی نہیں ہوسکتی،نیز تین بار دھونے میں سارے عضو کے دھل جانے کا یقین ہوجاتا ہے اس پر زیادتی شیطانی وسوسہ کی بناء پر ہوسکتی ہے۔
|
418 -[28] وَعَن عبد الله بن الْمُغَفَّل أَنه سمع ابْنه يَقُول: الله إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَ تَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُول: «إِنَّه سَيكون فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّهُورِ وَالدُّعَاءِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی میں تجھ سے جنت کی داہنی طرف سفید محل مانگتا ہوں تو فرمایا کہ میرے بچے اﷲ سے جنت مانگواور دوزخ سے اس کی پناہ مانگو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس امت میں وہ قوم ہوگی جو وضو اور دعا میں حد سے تجاوز کیا کرے گی۲؎ (احمدوابوداؤد و ابن ماجہ) |
۱؎ آپ قبیلہ مزینہ کے ہیں،بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے،مدینہ طیبہ قیام رہا،عہدِ فاروقی میں آپ کو بصرے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو علم سکھائیں،وہاں ہی ۶۰ھ میں انتقال ہوا۔
۲؎ دعا میں تجاوز تو یہ ہے کہ ایسی تعیّن کی جائے جس کی ضرورت نہیں جیسے ان کے صاحبزادہ نے کیا۔فردوس مانگنا بہت بہتر ہے کہ اس میں شخصی تعین نہیں نوعی تقرر ہے اس کا حکم دیا گیا ہے۔وضو میں حد سے بڑھنا دو طرح ہوسکتا ہے:تعداد میں زیادتی اور عضو کی حد میں زیادتی جیسے پاؤں گھٹنے تک دھونا اور ہاتھ بغل تک کہ یہ دونوں باتیں ممنوع ہیں۔
|
419 -[29] وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِلْوُضُوءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهُ الْوَلَهَانُ فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ لِأَنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ خَارِجَةَ وَهُوَ لَيْسَ بِالْقَوِيّ عِنْد أَصْحَابنَا |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ وضو کا ایک شیطان ہے جسے ولہان کہا جاتا ہے ۱؎ تو پانی کے وسوسوں سے بچو۲؎(ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد محدثین کے نزدیک قوی نہیں کیونکہ ہم نے خارجہ کے سوا کسی کو نہ جانا جو اسے مرفوعًا نقل کرے اور خارجہ ہمارے دوستوں کے نزدیک قوی نہیں۔ |
۱؎ ولہان وَلْہٌ سے بنا،بمعنی حیرت یا حرص۔چونکہ یہ شیطان وضو کرنے والے کو حیرت میں ڈال دیتا ہے اور پانی کے زیادہ استعمال پر حریص کرتا ہے اس لئے اسے ولہان کہا جاتا ہے۔زیادتی عشق کو بھی ولہ اور عاشق حیرت زدہ کو بھی ولہان کہتے ہیں۔شیطان کی جماعتیں مختلف ہیں۔جن کے علیحدہ علیحدہ کام ہیں ان میں سے ایک جماعت کا یہ کام اور یہ نام ہے۔
۲؎ دل میں جو شک بلا دلیل پیدا ہواسے وسوسہ کہا جاتا ہے۔بلاوجہ یہ خیال کرنا کہ شاید پانی نجس ہو،شاید کپڑوں پرچھینٹیں پڑ گئیں ہوں،شاید پانی پورے عضو پر نہ بہاہو،یہ سب کچھ وسوسے ہیں۔بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ ہاتھوں کی لکیروں میں پانی پہنچاتے ہیں۔
|
420 -[30] وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ مسح وَجهه بِطرف ثَوْبه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ جب وضو کرتےتو اپنا چہرہ اپنے کپڑے کے کنارے سے پونچھتے ۱؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع