30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جمع نہیں ہوسکتے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک پاؤں دھولو اور ایک پاؤں کے موزے پر مسح کرلو یا آدھا وضو کرلو اور آدھا تیمم،نیز چمڑے اورموٹے سوتی موزوں پر مسح جائز ہے جب کہ بغیر باندھے پنڈلی پرٹھہرے رہیں۔اس کی پوری بحث آئندہ آئے گی۔ان شاء اﷲ!
|
400 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ: فِي طهوره وَترَجله وتنعله |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقدر طاقت اپنے تمام کاموں میں داہنے سے شروع فرمانا پسند کرتے تھے اپنی طہارت میں اور کنگھی کرنے اور نعلین پہننے میں ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ تین چیزیں بطور مثال ارشاد فرمائی گئیں ورنہ سرمہ لگانا،ناخن و بغل کے بال لینا،حجامت اور مونچھیں کٹوانا،مسجد میں آنا اور مسواک کرنا وغیرہ سب میں سنت یہ ہے کہ داہنے ہاتھ یا داہنی جانب سے ابتداء کرےکیونکہ نیکیاں لکھنے والا فرشتہ داہنی طرف رہتا ہے اس کی وجہ سے یہ سمت افضل ہے حتی کہ داہنا پڑوسی بائیں پڑوسی سے زیادہ مستحق سلوک ہے۔(اشعۃ اللمعات)علماء فرماتے ہیں کہ دوسری مسجدوں میں صف کا داہنا حصہ بائیں سے افضل مگر مسجد نبوی میں بایاں حصہ داہنے سے افضل کیونکہ وہ روضۂ مطہرہ سے قریب ہے۔روضۂ مطہرہ دل ہے اور دل بائیں طرف ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔صوفیائےکرام کے اقوال بے دلیل نہیں ہوتےکیونکہ جب نیکیاں لکھنے والے فرشتے کی وجہ سے داہنا حصہ بائیں سے افضل ہوا تو وہاں قرب مصطفوی کی وجہ سے بائیں سمت افضل ہوگی۔چنانچہ سرکار فرماتے ہیں کہ نماز میں داہنی جانب نہ تھوکو نہ جوتا رکھو کیونکہ ادھر رحمت کا فرشتہ ہے۔
|
401 -[11] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذا لبستم وَإِذا توضأتم فابدؤوا بأيامنكم» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم پہنو اور جب وضو کرو تو داہنے سے شروع کرو ۱؎(احمد،ابوداؤد) |
۱؎ پہننا کرتا،پائجامہ،جوتا ان سب کو شامل ہے۔اور وضو میں غسل وتیمم بھی داخل ہے۔اَیَامِن ایمن کی جمع ہے جو یمین یا یمن سے بنا بمعنی برکت و مبارک۔چونکہ اسلام میں داہنا حصہ مبارک مانا گیا کہ قیامت میں نیکوں کے نامۂ اعمال بھی اسی ہاتھ میں ہوں گے اسی لئے اسے ایمن یا یمین کہتے ہیں۔یعنی جب کچھ پہنو تو داہنے ہاتھ پاؤں میں پہلے،بائیں میں بعد میں پہنو اور جب وضو یا غسل وتیمم کرو تو داہنی جانب سے شروع کرو مگر اتارنے میں اس کے برعکس۔
|
402 -[12] وَعَن سعيد بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ الله عَلَيْهِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه 403 -[13] وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ 404 -[14] والدارمي عَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ عَن أَبِيه وَزَادُوا فِي أَوله: |
روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کا وضو نہیں جس نے اس پر اﷲ کا نام نہ لیا ۲؎ اسے ترمذی وا بن ماجہ نے روایت کیا،احمدوابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ سے اور دارمی نے حضرت ابوسعید خدری سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا اس کے شروع میں بڑھایا کہ جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع