دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

بھی دھولیا جائے۔خیال رہے کہ جیسے ناک جھاڑنا ہروضو میں سنت ہے نیند کے بعدہوایااور وقت،ایسے ہی کلائی تک ہاتھ دھونا بھی ہر وضو میں سنت ہےکیونکہ یہ علتِ حکم نہیں بلکہ حکمتِ حکم ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاں گندا آدمی بیٹھ جائے وہ جگہ دھو دینا بہتر ہے کہ وضومیں ناک اسی لئے دھوئی گئی کہ اس میں گنداشیطان بیٹھ گیا تھا۔

393 -[3]

وَقيل لعبد الله بن زيد: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهَ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ ردهما حَتَّى يرجع إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ وَلِأَبِي دَاوُدَ نَحْوُهُ ذكره صَاحب الْجَامِع

عبداﷲ ابن زید ابن عاصم سے کہا گیا  ۱؎  کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم کیسے وضو کرتے تھے تو آپ نے پانی منگایاپھراپنے ہاتھوں پرڈالا دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے۲؎ پھر کلی کی اور ناک جھاڑی(تین بار)پھر تین بار منہ دھویاپھرہاتھ دوبارکہنیوں تک دھوئے پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا کہ انہیں آگے پیچھے لے گئے سر کے اگلے حصے سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر لوٹا لائے حتی کہ اسی جگہ لوٹ آئے جہاں سے شروع کیا تھا۳؎  پھر اپنے پاؤں دھوئے ۴؎(مالک و نسائی)اور ابو داؤد کی روایت بھی اسی طرح ہے جیسے جامع والے نے ذکر کیا ۵؎

۱؎  آپ انصاری مازنی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا کرتے تھے۔عبداﷲ ابن زید ابن عبداﷲ دوسرے ہیں وہ اذان والے کہلاتے ہیں۔مشہور یہ ہے کہ آپ نے حضرت وحشی کے ساتھ مل کر مسلیمہ کذاب کوقتل کیا،آپ جنگ احد میں حضور کے ساتھ رہے،جنگ حرہ میں ۷۳ھ ؁شہید ہوئے۔

۲؎   دوبار ہاتھ دھونا بیان جواز کے لئے ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس طرح بھی وضو ہوجاتا ہے ورنہ تین بار ہاتھ دھونا سنت ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے کہ حضور نے تین باراعضاءدھوکرفرمایا کہ جو اس پر زیادتی کمی کرے اس نے برا کیا،حضرت عبداﷲ نے صرف اعمال وضو کا ذکر فرمایااسی لیے بسم اﷲ یا نیت کا ذکر نہ کیا نہ اعضاء کی دعاؤں کا،مسواک وضو سے خاص نہیں اورموقعوں پر بھی ہوتی ہے اس لئے اس کا ذکر بھی نہ فرمایا۔(مرقاۃ)

۳؎  ظاہر یہی ہے کہ سر شریف کا مسح ایک بار ہی کیا تین بارمسح سے سر دھلے گا اور سر کا دھونا سنت نہیں۔خیال رہے کہ چہارم سر کا مسح فرض ہے اور پورے سر کا مسح سنت ہے،یہاں مسح سنت کا ذکر ہے۔ہر ہاتھ کی تین انگلیاں کھوپڑی کے اگلے حصہ پر رکھے پھر آخر سر تک لے جائے واپسی میں یہ انگلیاں علیحدہ کرکے صرف ہتھیلیاں سر کے دونوں طرف لگائے اور آگے کو کھینچ لائے،یہ ہی یہاں مراد ہے۔کلمہ کی انگلی سے اندرون کان کا مسح کرے اور انگوٹھے سے بیرون کا،مسح سر کا طریقہ مستحب یہ ہی ہے۔

۴؎  مع ٹخنوں کے تین بار،جیسا کہ دوسری روایت میں ہے،لہذایہ حدث بعض لحاظ سے مجمل ہے۔

۵؎  یعنی ابن اثیر نے جو جامع الاصول کے مؤلف ہیں جس میں صحاح ستہ کی احادیث جمع فرمائی ہیں۔اس عبارت میں مصنف پر اعتراض ہے کہ انہوں نے پہلی فصل میں وہ روایت نقل فرمائی جومسلم وبخاری کی نہیں۔

394 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ: تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَأَكْفَأَ مِنْهُ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رجلَيْهِ وَفِي رِوَايَة: فَمَضْمض واستنشق واستنثر ثَلَاثًا بِثَلَاث غَرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ

وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفَّةٍ وَاحِدَةٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَفِي أُخْرَى لَهُ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّات من غرفَة وَاحِدَة

اور مسلم،بخاری میں ہے کہ عبداﷲ ابن زیدابن عاصم سے کہا گیا کہ آپ ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ  وسلم کا وضو کریں تو آپ نے برتن منگایااس سے ہاتھوں پر پانی لے کرتین باردھویا پھراپنا ہاتھ برتن میں ڈالاپھرنکالا ۱؎ پھرایک چلوسے کلی کی اور ناک میں پانی لیا ۲؎  یہ تین بار کیا پھر اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا اپنا منہ تین باردھویا،پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو کہنیوں تک دو دو بار ہاتھ دھوئے پھر ہاتھ ڈال کر نکالا تو سر کا مسح کیا تو اپنا ہاتھ آگے پیچھے لے گئے پھر ٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوئے۳؎  پھرفرمایا حضور صلی اللہ علیہ  وسلم کا وضو یوں ہی تھا۴؎   اورایک روایت میں ہے کہ دونوں ہاتھوں کو آگے پیچھے لے گئے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر واپس لائے حتی کہ اسی جگہ لائے جہاں سے شروع کیا تھا پھر اپنے ہاتھ دھوئے اور ایک روایت میں ہے کہ کلی کی،ناک میں پانی لیا اور ناک جھاڑی تین بار تین چلو پانی سے ۵؎  اور دوسری روایت میں ہے کہ ایک ہاتھ سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا ۶؎  یہ تین بار کیا اوربخاری کی روایت میں ہے کہ سر کا مسح کیا تو ہاتھ آگے پیچھے ایک بار لے گئے ۷؎  پھر ٹخنوں تک پاؤں دھوئے انہیں کی دوسری روایت میں ہے کہ تین بار کلی کی اور ناک جھاڑی ایک چلو سے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن