30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
389 -[14] وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَفْضُلُ الصَّلَاةُ الَّتِي يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضعفا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ان ہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نماز کے لیئے مسواک کی جائے وہ اس نماز پر ستر گنا زیادہ ہے جس کے لیئے مسواک نہ کی جائے ۱؎ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔ |
۱؎ حدیث اپنے ظاہر پر ہے۔ستر کا عدد بیان زیادتی کے لیے ہے جیسے اردو میں کہا جاتا ہے بیسوں،سینکڑوں۔ بعض علماء نے فرمایا کہ کبھی سنت کا ثواب فرض و واجب سے بڑھ جاتا ہے۔دیکھو جماعت پنج گانہ نماز کے لئے واجب ہے اور جمعہ اور عیدین کے لئے فرض،مگر اس کا ثواب ستائیس گنا۔اورمسواک سنت ہے اوراس کا ثواب ستر گنا۔یوں ہی سلام کرنا سنت اور جواب سلام فرض مگر سلام کا ثواب جواب سے زیادہ ہے۔اور ہوسکتا ہے کہ جماعت کے ستائیس درجے ایسے ہوں جس کا ہر درجہ مسواک کے ستر درجوں کے برابر ہو۔
|
390 -[15] وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ» قَالَ فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَّا اسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهُ إِلَى مَوْضِعِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح |
روایت ہے ابو سلمہ سے ۱؎ وہ زید ابن خالد جہنی سے ۲؎ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اگر میں اپنی امت پر بھاری نہ جانتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا اورنمازعشاءکو تہائی رات تک پیچھے ہٹا دیتا ۳؎ فرماتے ہیں کہ زید ابن خالد مسجد میں نماز کے لیئے یوں آتے تھے کہ ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی۔جیسے منشی کے کان میں قلم جب بھی نماز کو کھڑے ہوتے تو مسواک کرلیتے پھر وہاں ہی مسواک رکھ لیتے۴؎ اسے ترمذی و ابوداؤد نے روایت کیا مگر ابوداؤد نے لَاَخَّرْتُ کا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
۱؎ آپ کا نام عبداﷲ ابن عبدالرحمن بن عوف ہے،قرشی زہری ہیں،مدینۂ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں،عظیم الشان تابعی ہیں،۷۲ سال عمر پائی، ۹۷ھ میں وفات ہوئی۔
۲؎ مشہور صحابی ہیں،عبدالملک ابن مر وان کے زمانہ میں ۷۸ھ مقام کوفہ میں فوت ہوئے۔(مرقاۃ واشعہ)
۳؎ یعنی یہ دونوں چیزیں فرض کردیتا کہ بغیر مسواک نماز ہی نہ ہوتی اور تہائی رات سے پہلے نماز عشاءناجائز ہوتی۔معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک احکام بنایا ہے کہ چاہیں فرض کریں چاہیں نہ کریں۔
۴؎ یہ حضرت زید ابن خالد کا اپنا اجتہاد تھا۔ان کے سوا کسی صحابی نے بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کبھی نہ کیا۔حضرت زید"کُلِّ صَلوٰۃٍ"سے ہر نماز سمجھے حالانکہ وہاں نماز کا وضو مراد ہے،جیسا کہ ہم شروع میں تحقیقًا عرض کرچکے ہیں۔یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ زیور کی حدیث سن کر وضو میں بغل تک ہاتھ دھوتے تھے۔لہذا یہ عمل قابلِ تقلید نہیں۔میں نے کویت میں بعض شوافع کو دیکھا کہ ان کے گلے میں مسواک پڑی رہتی ہے،ہر نماز کی نیت پر مسواک کرتے جاتے تھے،حالانکہ مسواک کا کھڑا کرکے رکھنا سنت ہے۔غالب یہ ہے کہ حضرت زید نے"کُلِّ صَلوٰۃٍ"سے ہروقت کی نمازسمجھا نہ کہ ہر نماز،لہذا آپ ایک وقت کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع