30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بائیں پاؤں کی چھنگلی پر ختم کرے ۔جمعہ کے دن کٹوانا مستحب ہے اور جمعرات کے دن بعد نماز عصر بہت بہتر۔ہر ہفتہ یا پندرہ دن میں ایک بار کاٹ لے۔چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔
۵؎ کھانا وغیرہ کھاکر یا کوئی اور کام کرکے،مراد پوروں سے پوری انگلیاں ہیں۔
۶؎ اکھیڑنا سنت ہے،منڈانا جائز ہے۔
۷؎ سنت ہے۔چونے وغیرہ سے صاف کردینا بھی جائز،قینچی سے کاٹ دینا خلاف۔سنت ان احکام میں عورتیں اور مراد برابر ہیں۔(مرقاۃ)
۸؎ یعنی پیشاب پاخانہ کا استنجاء پانی سے کرنا سنت ہے،اور اگر نجاست روپے بھر سے زیادہ ہو تو فرض۔
۹؎ راوی سے مرا د مصعب ہیں یا زکریا ابن ابی زائدہیں۔(مرقاۃ)
۱۰؎ لڑکے کا ختنہ سنت ہے۔ساتویں دن سے لے کر ساتویں سال تک کردیا جائے،بلوغ سے پہلے ہونا ضروری ہے،بعد بلوغ ستر اس کے لیے کھولنا حرام ہے۔جو جوان آدمی ایمان لائے تو اگر ممکن ہو تو ختنہ کا کام جاننے والی عورت سے اس کا نکاح کردیا جائے،کہ وہ ختنہ کرے ورنہ نہیں۔
۱۱؎ یہ صاحب مصابیح پر اعتراض ہے کہ پہلی فصل میں غیرصحیحین کی روایت لے آئے۔
|
381 -[6] عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ البُخَارِيّ فِي صَحِيحه بِلَا إِسْنَاد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسواک منہ صاف کرنے والی ہے۔اﷲ کی رضا کا سبب ہے ۱؎ اسے شافعی و احمد دارمی و نسائی نے روایت کیا اور بخاری نے اپنی صحیح میں بغیر اسناد روایت کیا۔ |
۱؎ یعنی اس میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔خیال رہے کہ مسواک سے مسلمان کا مسواک کرنا بنیّتِ عبادت مراد ہے،کفار کی مسواک اورمسلمانوں کی عادتًا مسواک اگرچہ منہ تو صاف کردے گی مگر رضائے الٰہی کا ذریعہ نہ بنے گی،نیز اگرچہ مسواک میں دنیوی اور دینی بہت فوائد ہیں،مگر یہاں صرف دو فائدے بیان ہوئے۔یا اس لئے کہ یہ بہت اہم ہیں یا کیونکہ باقی فوائد بھی ان دو میں داخل ہیں۔منہ کی صفائی سے معدے کی قوت اور بے شمار بیماریوں سے نجات ہے اور جب رب راضی ہوگیا پھر کیا کمی رہ گئی۔
|
382 -[7] وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاحُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چار چیزیں پیغمبروں کی سنتوں سے ہیں ۱؎ شرم۔ ایک روایت میں ہے ختنہ ۲؎ عطر ملنا،مسواک اور نکاح ۳؎ ( ترمذی) |
۱؎ سنت قولی یا فعلی،لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ عیسیٰ و یحیی علیھما السلام نے نکاح نہیں کیا کیونکہ ان بزرگوں نے اپنے متبعین کو نکاح کی رغبت ضروردی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع