30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ایمان کےلغوی معنی ہیں امن دینا۔شریعت میں ایمان اُن اسلامی عقائد کا نام ہےجنہیں مان کر انسان عذابِ الٰہی سے امن میں آجاتا ہے،یعنی تمام ان چیزوں کو ماننا جوحضور رب کی طرف سے لائے،چونکہ ایمان محض ماننے اورتصدیق کا نام ہے اس لیئے اس میں مقدارناممکن ہے،ہاں کیفیت کی زیادتی وکمی ممکن ہے،چونکہ ایمان عبادت کی اصل ہے اس لیئے پہلے اسے بیان فرمایا۔
|
2 -[1] عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فأسند رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ: " الْإِسْلَامُ: أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ". قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ. قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» . قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ. قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ: «مَا المسؤول عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا. قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» . قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ» ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرِيل أَتَاكُم يعلمكم دينكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنےنمودارہوئے ۱؎ جن کے کپڑے بہت سفیداور بال خوب کالے تھے۲؎ اُن پر آثارِ سفر ظاہر نہ تھے اور ہم سےکوئی اُنہیں پہچانتا بھی نہ تھا۳؎ یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے اور اپنے گھٹنے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کےگھٹنوں شریف سے مَس کر دیئے۴؎ اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر رکھے۵؎ اور عرض کیا اَےمحمد(صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے اسلام کے متعلق بتائیے۶؎ فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اﷲ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمد اﷲ کے رسول ہیں۷؎ اور نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچ سکو ۸؎ عرض کیا کہ سچ فرمایا ہم کو ان پرتعجب ہوا کہ حضور سے پوچھتےبھی ہیں اورتصدیق بھی کرتے ہیں۹؎عرض کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایاکہ اﷲ اور اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخری دن کو مانو۱۰؎ اور اچھی بُری تقدیرکو مانو۱۱؎ عرض کیا آپ سچے ہیں عرض کیامجھےاحسان کے متعلق بتائیے۱۲؎ فرمایا اﷲ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اُسے دیکھ رہے ہو۱۳؎ اگر یہ نہ ہوسکے تو خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے۱۴؎ عرض کیا کہ قیامت کی خبر دیجئے۱۵؎ فرمایا کہ جس سے پوچھ رہے ہو وہ قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ خبردارنہیں ۱۶؎ عرض کیا کہ قیامت کی کچھ نشانیاں ہی بتادیجئے ۱۷؎ فرمایا کہ لونڈی اپنے مالک کوجنے گی۱۸؎ اور ننگے پاؤں ننگے بدن والے فقیروں،بکریوں کے چرواہوں کومحلوں میں فخر کرتےدیکھو گے ۱۹؎ راوی فرماتے ہیں کہ پھرسائل چلے گئے میں کچھ دیر ٹھہرا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اےعمرجانتے ہو یہ سائل کون ہیں مَیں نےعرض کیااﷲ اوررسول جانیں۲۰؎ فرمایا یہ حضرت جبریل تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۲۱؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع