30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ معلوم ہوا کہ مسواک وضو کے علاوہ بھی کرنی چاہیئے۔مرقاۃ وغیرہ میں ہے کہ مسواک کے ستر فائدے ہیں:جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مرتے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے،یہ "پائیریا"سے محفوظ رکھتی ہے،گندہ دہنی دور کرتی ہے،دانتوں و معدے کو قوی کرتی ہے،آنکھوں میں روشنی دیتی ہے۔دیکھو شامی وغیرہ۔ اور افیون میں ستر برائیاں ہیں:جن میں سے ایک یہ ہے کہ ا س سے خرابیٔ خاتمہ کا اندشیہ ہے۔
|
378 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کے لیئے رات میں اٹھتے تو اپنا منہ شریف مسواک سے ملتے ۱؎ (بخاری و مسلم) |
۱؎ یعنی وضو بلکہ استنجے سے بھی پہلے،پھر وضو میں اس کے علاوہ کیونکہ مسواک بیدار ہونے کی بھی سنت ہے اور وضوکی بھی۔
|
379 -[4] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَشْرَ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَ إِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَ غَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ)يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ-قَالَ الرَّاوِي: ونسيت الْعَاشِرَة إِلَّا أَن تكون الْمَضْمَضَة. رَوَاهُ مُسلم وَفِي رِوَايَةٍ «الْخِتَانُ» بَدَلَ «إِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ» لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي «الصَّحِيحَيْنِ» وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهَا صَاحِبُ «الْجَامِعِ» وَكَذَا الْخطابِيّ فِي «معالم السّنَن» : 380 -[5] عَن أبي دَاوُد بِرِوَايَة عمار بن يَاسر |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دس چیزیں نبیوں کی سنت سے ہیں ۱؎ مونچھ کٹانا ۲؎ داڑھی بڑھانا۳؎ مسواک،ناک میں پانی لینا،ناخن کٹانا۴؎ پورے دھونا ۵؎ بغل کے بال اکھیڑنا۶؎ زیر ناف کے بال مونڈنا۷؎ پانی خرچ کرنا یعنی استنجاءکرنا ۸؎ راوی کہتے ہیں کہ میں دسویں بات بھول گیا ممکن ہے کلی ہو ۹؎ (مسلم)اور ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کی بجائے ختنہ ہے۱۰؎ میں نے یہ روایت نہ تو صحیحین میں پائی ہے اور نہ کتاب حمیدی میں لیکن اسے جامع و الے نے اور یوں ہی خطابی نے "معالم السنن"میں بروایت ابوداؤد عمار ابن یاسر سے روایت کیا ۱۱؎ |
۱؎ فطرت کے لغوی معنی ہیں پیدائش،رب فرماتا ہے: "فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضِ"مگر اصطلاح میں ان سنت انبیاءکو فطرت کہا جاتا ہے جن پر ہمارے حضور بھی عامل رہے۔
۲؎ اتنی کہ اوپر کے ہونٹ کی سرخی نمودار ہوجائے،اس سے زیادہ کترانا بھی منع ہے اور منڈانابھی ممنوع۔بعض علماء نے مجاہدین کو بحالت جنگ مونچھیں بڑھانے کی اجازت دی ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۳؎ چار انگشت واجب اس سے قدرے زیادہ جائز ہے،بہت زیادہ مکروہ،چار انگشت سے کم کرنا سخت منع اور منڈانا حرام،نیز ہندوؤں اور عیسائیوں کا طریقہ ہے۔اگر عورت کے داڑھی نکل آئے تو اسے منڈادے۔خیال رہے کہ ٹھوڑی کے نیچے والے بال ایک مشت کے بعد کٹوائے اور اس کے آس پاس اسی مناسبت سے کہ بالوں کا حلقہ بن جائے جیسا کہ سیدنا ابن عمر کا طریقہ تھا(بخاری شریف)قرآن حکیم فرماتا ہے: "لَاتَاۡخُذْ بِلِحْیَتِیۡ"۔معلوم ہوا کہ ایک مشت داڑھی سنت انبیاء ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہے ۔
۴؎ ہاتھوں اورپاؤں کے اس طرح کہ پہلے داہنے ہاتھ کی کلمے کی انگلی سے شروع کرکے چھنگلی پر ختم کردے،پھر بائیں ہاتھ کی چھنگلی سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کردے،پھر داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹ لے،اس کے بعد داہنے پاؤں کی چھنگلی سے شروع کرے اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع