30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
370 -[37] وَعَن سلمَان قَالَ قَالَ لَهُ بعض الْمُشْركين وَهُوَ يستهزئ بِهِ إِنِّي لأرى صَاحبكُم يعلمكم كل شَيْء حَتَّى الخراءة قَالَ أَجَلْ أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأحمد وَاللَّفْظ لَهُ |
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں بعض مشرکوں نے مذاقًا کہا کہ ہم تمہارے صاحب کو دیکھتے ہیں کہ تم کو پاخانہ کرنا تک سکھاتے ہیں ۱؎ میں نے کہاہاں ہمیں حکم دیا ہے کہ قبلہ کو منہ نہ کریں اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کریں اور تین پتھروں سے کم پر کفایت نہ کریں ان میں نہ گوبر ہو نہ ہڈی ۲؎(مسلم)احمد نے روایت کیا یہ اس کے لفظ ہیں۔ |
۱؎ ایسی معمولی باتیں سکھانا ان کی شان کے خلاف ہے بڑے لوگ بڑی باتیں سکھائیں۔
۲؎ سبحان اﷲ!کیسا حکیمانہ جواب ہے یعنی یہ تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال ہے کہ ہمیں کسی کا محتاج نہ رکھا سب کچھ سکھا دیا۔دیکھو ہمیں استنجاء کے بارے میں کیسے نفیس احکام عطا فرمائے،تم بھی یہ باتیں سیکھ لو۔
|
371 -[38] وَعَن عبد الرَّحْمَن بن حَسَنَةَ قَالَ: " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَده كَهَيئَةِ الدَّرَقَةُ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ فَسَمعهُ فَقَالَ أَو مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذا أَصَابَهُم شَيْء من الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. 372 -[39] وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَنهُ عَن أبي مُوسَى |
روایت ہے حضرت عبدالرحمان بن حسنہ سے ۱؎ فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ شریف میں ڈھال تھی آپ نے ڈھال زمین پر رکھی پھر بیٹھ کراس کے پیچھے پیشاب کیا ۲؎ تو بعض کفار بولے انہیں دیکھو تو عورتوں کیطرح پیشاب کرتے ہیں۳؎ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی تو فرمایا افسوس تم پر کیا تمہیں خبر نہیں کہ بنی اسرائیل والے کو کیا آفت پہنچی تھی کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو قینچیوں سے جگہ کاٹ ڈالتے تھے اس نے انہیں منع کیا تو اپنی قبر میں عذاب دیا گیا۴؎ اسے ابوداؤد ابن ماجہ نے روایت کیا اور نسائی نے ان سے انہوں نے ابوموسی سے۔ |
۱؎ حسنہ ان کی والد ہ کا نام ہے،والد کا نام عبداللہ ابن مطاع ہے،آپ صحابی ہیں۔
۲؎ ورقہ چمڑے کی وہ ڈھال ہے جس میں لکڑی اور پٹھا استعمال نہ کیا جائے۔ہلکی ہوتی ہے،جنگ میں تلوار کا وار آسانی سے روک لیتی ہے۔ڈھال کی آڑمیں پیشاب کرنے سےمعلوم ہوا کہ پیشاب کے وقت پورے جسم کا چھپانا ضروری نہیں،صرف شرمگاہ کا چھپ جانا کافی ہے کیونکہ ڈھال چھوٹی ہوتی ہے۔
۳؎ اسلام سے پہلے عربی مردبے دھڑک سب کے سامنے ننگے پیشاب پاخانہ کرلیا کرتے تھے۔ستر اور شرمِ حجاب اسلام نے سکھایا وہ لوگ اس تہذیب کا مذاق اڑاتے تھے،جیسے آج بعض بے دین جاہل بعض اسلامی احکام داڑھی،نماز وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔یہ ایسے ہی ہے جیسے نکٹے ناک والوں کا نکو کہہ کر مذاق اڑائیں۔
۴؎ خلاصۂ جواب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیشاب کے احکام بہت سخت تھے کہ اگر کپڑے میں لگ جائے جلا ڈالو،اوراگر بدن پر لگ جائے تو اتنی کھال چھیل ڈالو۔ان میں ایک شخص نے بنی اسرائیل کو مشورہ دیا کہ ایسا نہ کرو۔اس مشورے پر وہ عذاب قبر میں گرفتار ہوا،حالانکہ اس نے ایسی چیزسے روکا تھا جو نفس پر سخت گراں تھی اور تو مجھے اس حجاب اور حیاسےمنع کررہا ہے جو نہ تکلیف دہ ہے نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع