30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزادکرکے اپنا بیٹا بنالیا اور اپنی لونڈی ام ایمن سے نکاح کردیا،جس سے اسامہ ابن زید پیدا ہوئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نکاح زینب بنت جحش سے کردیا جو بعد میں حضور کے نکاح میں آئیں۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیارےتھےحتی کہ آپ کا شمار اہل بیت پاک میں ہوتا ہے اور لوگ آپ کو زید ابن محمد کہا کرتے تھے۔تب یہ آیت اتری "اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ"تمام صحابہ رضی اللہ عنھم میں صرف آپ کا ہی نام قرآن پاک میں آیا ہے"فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا" آپ کی عمرپچپن سال ہوئی،جمادی الاولٰی ۸ھ غزوۂ موتیٰ میں شہید ہوئے۔
۲؎ پہلی وحی سے مراد فرضیت نمازیعنی شبِ معراج کے بعد کی پہلی وحی ہے جو نبوت کے تیرھویں سال ہوئی،کیونکہ اس سے پہلے نہ نماز آئی تھی نہ وضو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اجتہاد سے یہ سب کچھ کیا کرتے تھے۔لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پہلی وحی "اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"ہے۔
۳؎ امت کی تعلیم کے لیئے ورنہ حضور خود تو پہلے ہی سب کچھ جانتے تھے،نبوت سے پہلے غارثور میں اعتکاف اور عبادت کرتے تھے،مگر اب یہ احکام شرعیہٍ بنے،لہذا جبرئیل امین نے سکھایا نہیں،بلکہ رب کی طرف سے پہنچایا،لہذا جبرائیل امین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں،استاد نہیں،سکھانے والا رب ہے۔
۴؎ تاکہ حضور اپنی امت کو یہ سکھائیں۔اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ یہ وسوسہ کا علاج ہے۔
|
367 -[34] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: الْحَسَنُ بْنُ عَليّ الْهَاشِمِي الرَّاوِي مُنكر الحَدِيث |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس حضرت جبریل آئے عرض کیا اے محمد ۱؎ (صلی اللہ علیہ وسلم)جب آپ وضو کریں تو پانی چھڑک لیا کریں۔ترمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے میں نے محمد یعنی امام بخاری کو کہتے سنا کہ حسن بن علی ہاشمی راوی منکرالحدیث ہے۲؎ |
۱؎ شاید یہ حدیث اس آیت کے نزول سے پہلے کی ہے"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ"الایہ۔اس آیت کے نزول کے بعد فقط نام شریف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا حرام ہے،جب ہمارا رب ہی اپنے محبوب کو نبی،رسول،مزمل، مدثر کے القاب سے پکارے تو مخلوق صرف نام سے کیسے پکار سکتی ہے۔اور ہوسکتا ہے کہ یہ الفاظ شریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ہوں انہوں نے ادب سے پکارا ہو گا،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے انکسارًا اس طرح نقل فرمایا،جیسے کہا جاتا ہے کہ مجھ سے فلاں نے کہا تو اس وقت آنا،حالانکہ انہوں نے کہا ہوتا ہے(آپ تشریف لائیے گا)۔
۲؎ یعنی اس اسناد میں کوئی راوی حسن ابن علی بھی ہے جو خود ثقہ نہیں ہے اور اس روایت میں وہ اکیلا ہے مگرمضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث معتبر ہے۔خیال رہے کہ یہ حسن ابن علی کوئی غیر معتبرشخص ہے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ مراد نہیں جیسا بعض لوگوں نےسمجھا۔
|
368 -[35] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: " بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عمر؟ قَالَ: مَاءٌ تَتَوَضَّأُ بِهِ. قَالَ: مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً«.»رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه " |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں پیشاب کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت عمر آپ کے پچھلے پانی کا کوزہ لے کر کھڑے ہوگئے فرمایا اے عمر!یہ کیا؟عرض کیا پانی ہے جس سے آپ وضو کریں فرمایا مجھے یہ حکم نہیں کہ جب کبھی پیشاب کروں تو وضو کرو اگر یہ کروں تو سنت ہوجائے ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع