دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

360 -[27]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وروى الدَّارمِيّ وَالنَّسَائِيّ مَعْنَاهُ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو میں آپ کی خدمت میں چھاگل یاپیالہ میں پانی لاتا ۱؎  آپ استنجاء کرتے پھر ہاتھ شریف زمین پر رگڑتے ۲؎  پھر میں دوسرا برتن لاتا تو وضو فرماتے۳؎  اسے ابوداؤد اور دارمی نے روایت کیا،نسائی نےبمعنی۔

۱؎   اس سےمعلوم ہوا کہ نبی امتی سے،پیرمرید سے،استاد شاگرد سے،باپ اپنے بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے۔اور ان لوگوں کا رضاء کارانہ طور پر بزرگوں کی خدمت کرنا سعادت مندی ہے۔

۲؎   تاکہ مٹی سے ہاتھ مانجھ کر بو دفع کردی جائے لہذا استنجے کے بعدصابون وغیرہ سے ہاتھ دھونا سنت سے ثابت ہے۔خیال رہے کہ حضور کا یہ فعل شریف بھی امت کے لیے ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات میں بدبو نہ تھی حتی کہ ایک بی بی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب دھوکہ میں پی لیا جیسا کہ اس کے موقع پر ذکر کیا جائے گا۔ان شاءاﷲ!

۳؎    اکثر نہ کہ ہمیشہ،جیساکہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔چونکہ برتن چھوٹا تھا استنجے کے بعد وضو کے لائق پانی نہیں بچتا تھا،اس لیے دوسرے برتن سے وضو فرماتے تھے ورنہ استنجے کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے۔

361 -[28]

وَعَن الحكم بن سُفْيَان قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَالَ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حکیم ابن سفیان سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو فرماتے اور شرمگاہ(رومالی)پر چھینٹا دیتے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎  سفیان ابن حکم کی صحابیت میں اختلاف ہے،نیز ان کا نام یا حکم ابن سفیان ہے یا سفیان ابن حکم۔رومالی پر چھینٹا مارنا دفع وسوسہ کے لیے اکسیر ہے۔بعض علماء ہر وضو کے بعد اس کے چھینٹے کو مستحب کہتے ہیں۔بعض فرماتے ہیں کہ اگر پیشاب کے بعد وضو کیا جائے تو چھینٹا مار لیا جائے تاکہ اگر بعدمیں رومالی پرتری نظر آئے تو اس کے پیشاب ہونے کا احتمال نہ رہے یہی صحیح ہے۔

362 -[29]

وَعَن أُمَيْمَة بنت رقيقَة قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[117]- قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ يَبُولُ فِيهِ بِاللَّيْلِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے امیمہ بنت رقیقہ سے ۱؎  فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا پیالہ تھا جو آپ کے تخت کے نیچے رکھا رہتا تھا جس میں رات کو پیشاب کرتے تھے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎  آپ صحابیہ ہیں،آپ کے والد کا نام عبداﷲ اور ماں کا نام رقیقہ ہے،یا حضور کی پھوپھی ہیں یعنی آپ کے والد کی ماں شریکی ہمشیرہ یا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی بہن،اور ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں رشتے ہوں۔

۲؎  عید ان یا عود کی جمع ہے۔(بمعنی لکڑی)یا عیدانیۃٌ کی،بمعنی درخت کھجور۔سرکار اکثر زمین پرسوتے تھے(صلی اللہ علیہ وسلم)اور کبھی تخت پر بھی،پائنتی کی طرف یہ پیالہ رہتا تھا تاکہ پیشاب کے لیے سردی وغیرہ میں باہر نہ جانا پڑے۔

363 -[30]

وَعَن عمر قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا فَقَالَ: «يَا عُمَرُ لَا تَبُلْ قَائِمًا» فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ 

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میں کھڑے ہوئے پیشاب کررہا تھا تو فرمایا کہ اے عمر کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا کرو پھر میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن