دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

357 -[24]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ والخبائث ".رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے زید بن ارقم سے فرماتے ہیں ۱؎  فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پاخانے جنات کے حاضر رہنے کی جگہ ہیں ۲؎  تو جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو کہہ لے میں گندے جن اور جناتنی سے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎  آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو عمرو ہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،کوفہ میں قیام رہا،۸۵ سال عمر پائی، ۷۸ھ؁ میں کوفہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔

۲؎  کیونکہ یہاں پلیدیاں پڑتی ہیں،اﷲ کا ذکر ہوتا نہیں،اس لئے وہاں شیطان لوگوں کی تاک میں بیٹھتے ہیں،اسی لئے حکم ہے کہ بلاضرورت پاخانہ میں نہ جاؤ اوربلاوجہ وہاں نہ بیٹھو۔خیال رہے کہ گرجے،مندر،شراب خانے،سینما،جہاں جواری جوا کھیلیں یہ تمام جگہ شیطانوں کے ٹھکانے ہیں۔سرکار نے فرمایا ہے کہ بازاروں میں شیطان رہتا ہے کہ وہاں جھوٹ،دھوکے بہت دیئےجاتے ہیں۔

۳؎   مگر یہ کلمات پاخانہ میں جانے سے پہلے کہے،پاخانہ کے اندر اﷲ کا ذکر منع ہے،کیونکہ وہاں گندگیاں ہیں۔

358 -[25]

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلَاءَ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَاده لَيْسَ بِقَوي

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنات کی آنکھوں اور لوگوں کے سترکے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی پاخانہ میں جائے تو بسم اﷲ کہہ لے ۱؎   اسے ترمذی نے روایت کیااورفرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی سند قوی نہیں۔

۱؎  یعنی جیسے دیوار اور پردے لوگوں کی نگاہ سے آڑ بنتے ہیں،ایسے ہی یہ اﷲ کا ذکر جنات کی نگاہوں سے آڑ بنے گا کہ جنات اس کو نہ دیکھ سکیں۔

359 -[26]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ قَالَ «غفرانك».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب پاخانے سے آتے تو فرماتے تیری بخشش(چاہیئے) ۱؎ (ترمذی،و ابن ماجہ،دارمی)

۱؎  ان تمام احادیث میں بیت الخلاءسے پاخانے پھرنے کی جگہ مراد ہے،جنگل میں ہو،یاچھت پر،یا گھر کے گوشہ میں،نہ کہ خاص کوٹھڑیاں کیونکہ اس زمانہ میں گھروں میں پاخانہ کی کوٹھڑیاں بنانے کا رواج نہ تھا۔اور پاخانہ سے فارغ ہوکرمغفرت مانگنے کی دو وجہ ہیں: ایک یہ کہ فراغت کا وقت اﷲ کے ذکر کے بغیر گزرا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اس حالت کے تمام حالات میں ذکر اﷲ کرتے تھے خداوند اس کوتاہی کو معاف کر۔دوسرے یہ کہ خیریت سے پاخانہ ہوجانا خدا کی بڑی نعمت ہے جس کے شکریہ سے زبان قاصرہے خدایا اس قصور کو معاف کر۔خیال رہے کہ حضور کی استغفارہ امّت کی تعلیم کے لیے ہے۔

360 -[27]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ فَاسْتَنْجَى ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وروى الدَّارمِيّ وَالنَّسَائِيّ مَعْنَاهُ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو میں آپ کی خدمت میں چھاگل یاپیالہ میں پانی لاتا ۱؎  آپ استنجاء کرتے پھر ہاتھ شریف زمین پر رگڑتے ۲؎  پھر میں دوسرا برتن لاتا تو وضو فرماتے۳؎  اسے ابوداؤد اور دارمی نے روایت کیا،نسائی نےبمعنی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن