30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی ا س سے وسوسوں اور وہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے،جیسا کہ تجربہ ہے یا گندگی چھینٹیں پڑنے کا وسوسہ رہے گا۔پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
|
354 -[21] وَعَن عبد الله بن سرجس قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے عبداﷲ ابن سرجس سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی شخص سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ آپ قبیلہ مزینہ یا قبیلہ بنی مخزوم سے ہیں،بصرہ کے رہنے والے ہیں،آپ کے والد کا نام یا سرجس ہے یا نرجس۔
۲؎ حجر سے مراد یا زمین کا سوراخ یا دیوار کی پھٹن،چونکہ اکثر سوراخوں میں زہریلے جانور،چیونٹیاں وغیرہ کمزور جانور یا جنات رہتے ہیں،چیونٹیاں پیشاب یاپانی سے تکلیف پائیں گی،یا سانپ وجن نکل کر ہمیں تکلیف دیں گے،اس لیے وہاں پیشاب کرنا منع فرمایا گیا۔چنانچہ سعدابن عبادہ انصاری کی وفات اسی سے ہوئی کہ آپ نے ایک سوراخ میں پیشاب کیا جن نے نکل کر آپ کو ہلاک کردیا۔لوگوں نے اس سوراخ سے یہ آوا زسنی "نَحْنُ قَتَلْنَا سَیِّدَ الْخَزْرَ جِ سَعْدَ بْنِ عُبَادَۃَ وَرَمَیْنَاہٗ بِسَھْمٍ فَلَمْ نُخْطِ مَوَادَ"۔ (مرقاۃ واشعۃ اللمعات)
|
355 -[22] وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَةَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَالظِّلِّ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لعنتی چیزوں سے بچو،گھاٹوں،درمیانی راستہ اور سایہ میں پاخانہ کرنے سے ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی کہ ہر وہ جگہ جہاں لوگ بیٹھتے یا آرام کرتے ہوں وہاں پاخانہ کرنا منع ہے کہ اس سے رب تعالٰی بھی ناراض ہے اور لوگ بھی گالیاں دیتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کے غسل اور استنجاءخانوں میں پاخانہ کرنا سخت جرم ہے۔بندوں کو ستانے والا رب کے عذا ب کا مستحق ہے۔
|
356 -[23] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْرُجِ الرَّجُلَانِ يَضْرِبَانِ الْغَائِطَ كَاشِفَيْنِ عَنْ عَوْرَتِهِمَا يَتَحَدَّثَانِ فَإِنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ابوسعیدنے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دوشخص پاخانہ کرنے نہ جائیں کہ شرمگاہیں کھولے باتیں کریں کیونکہ اﷲ تعالٰی اس پر ناراض ہوتاہے ۱؎ (احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ کیونکہ دوسرے کے سامنے ننگاہونا بھی منع ہے،اور پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے باتیں کرنابھی جرم،اس وقت باتیں کرنے سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے،بلکہ اس وقت اﷲ کا بھی ذکر نہ کریں،اگر چھینک آئے تو زبان سے الحمدﷲ بھی نہ کہیں،اگر کوئی سلام کرے تو جواب بھی نہ دیں۔غرض کہ پیشاب پاخانہ اورصحبت کے وقت مطلقًا بات کرنا ممنوع ہے۔
|
357 -[24] وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ والخبائث ".رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے زید بن ارقم سے فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پاخانے جنات کے حاضر رہنے کی جگہ ہیں ۲؎ تو جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو کہہ لے میں گندے جن اور جناتنی سے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع