30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
351 -[18] وَعَن رويفع بن ثَابت قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رُوَيْفِعُ لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّة أَو عظم فَإِن مُحَمَّدًا بَرِيء مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت رویفع بن ثابت سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے رویفع شاید میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو گی۲؎ تولوگوں کو خبر دے دینا کہ جو اپنی داڑھی میں گرہ لگائے یا تانت باندھے ۳؎ یا کسی جانور کی پلیدی یا ہڈی سے استنجاء کرے تو حضور انور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بیزار ہیں۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ انصاری ہیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں طرابلس کے حاکم رہے،افریقہ پر ۴۷ھ میں جہاد کیا، ۵۰ھ میں شام میں وفات پائی، مشہور صحابی ہیں۔
۲؎ معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی موت و زندگی سے خبردار ہیں،حضور نے جنگ ِ بدرسے ایک دن پہلے میدان میں خطوط کھینچ کر فرمایا کہ کل یہاں فلاں کافر ماراجائے گا،اوریہاں فلاں۔معلوم ہوا کہ وقت موت اور جگہ موت سے خبردار ہیں۔
۳؎ جہلائے عرب میدان جنگ میں بہادری دکھانے کے لیے داڑھی میں گرہ لگاتے،جیسے اب سے کچھ پہلے لوگ لمبی مونچھوں میں گرہ دیا کرتے تھے۔بعض نے فرمایا اہل عرب جس کے ایک بیوی ہوتی وہ داڑھی میں ایک گرہ لگاتا دو بیویوں والا دوگرہ،اس سے منع فرمادیا گیا،کیونکہ داڑھی میں کنگھی کرنا سنت ہے۔نیز نظر بد سے بچنے کے لیے گھوڑوں اور بچوں کے گلے میں تانت یا بتوں کے نام کے دم کئے ہوئے دھاگے باندھتے تھے یہ ممنوع ہے۔خیال رہے کہ آیات قرآنیہ اور اسمائے الہیہ کے تعویذ بھی باندھنا جائز ہے اور گنڈھے بھی جیسا کہ انشاءالله "باب الاستعاذہ" میں تحقیق کی جائے گی۔صحابہ کرام نے یہ عمل کئے ہیں۔لہذا اس حدیث سے ان تعویذ گھنڈوں کو منع نہیں کرسکتے۔گنگا کے پانی کی تعظیم اور تعظیمًا اس کا پانی پینا کفر ہے۔آب زمزم کی تعظیم ایمان کا رکن ہے،وہ پانی تعظیمًا کھڑے ہوکر پینا چاہیئے کہ یہ ایک پیغمبر کے قدم کا فیض ہے۔غرض کہ بتوں کے احکام بزرگوں پر جاری کرنا بڑی بے دینی ہے۔
۴؎ یعنی اس کام سے متنفّرہیں اورکرنیوالے سے ناراض ہیں،یہاں یہ نہ فرمایا گیا کہ میں بیزار ہوں،بلکہ فرمایا کہ حضور محمد مصطفےٰ بیزار ہیں تاکہ پتہ لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں محمد ہر طرح قابل حمد،جس سے وہ ناراض ہیں وہ ہر طرح برا ہی ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ کبھی گناہ صغیرہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا باعث بن جاتے ہیں،کیونکہ یہ مذکورہ تین کام گناہ صغیرہ ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ جاہلیت والوں کے کاموں سے مسلمان کو پرہیز چاہئیے۔
|
352 -[19] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حرج وَمن أكل فَمَا تخَلّل فليلفظ وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْغَائِط فليستتر وَمن لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سرمہ لگائے وہ طاق بار لگائے ۱؎ کرے تو اچھا ہے نہ کرے تو گناہ نہیں۲؎ اور جو استنجا کرے تو طاق سے کرے جو کرے تو اچھا اور نہ کرے تو گناہ نہیں۳؎ اور جو کھائے تو جو خلال سے نکالے وہ تھوک دے اور جوزبان سے نکالے وہ نگل لے۴؎ جو کرے تو اچھا ہے جو نہ کرے تو گناہ نہیں۵؎ اور جو پاخانہ جائے تو آڑ کرے اگر آڑ نہ پائے یا بجز اس کے کہ ریت کا ڈھیر جمع کرے تو اس ڈھیر کی طرف پیٹھ کرے ۶؎ کیونکہ شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے جو یہ کرے تو اچھا ہےجو نہ کرے تو گناہ نہیں ۷؎(أبوداؤد،ابن ماجہ،دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع