30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ دوسرے شخص کی دیوار کے پیچھے اس سے بغیر پوچھے ہوئے بھی پیشاب کرنا جائز ہے، بشرطیکہ مکان والے کی بے پردگی نہ ہو اورنہ اسے ایذاء پہنچے ورنہ ممنوع ہے۔چنانچہ اگر مالک نے لکھ کر لگا دیا ہو کہ یہاں پیشاب نہ بیٹھو وہاں نہ بیٹھیں۔دوسرے یہ کہ نرم زمین میں پیشاب کرنا چاہیئے تاکہ اس کی چھینٹیں نہ اڑیں،اگر نرم زمین نہ ہو تو کرید کر نرم کرلی جائے۔
|
346 -[13] وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الأَرْض. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب پاخانہ کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین کے قریب نہ ہوتے اپنا کپڑا نہ اٹھاتے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی) |
۱؎ جیسا کہ پچھلی حدیث سے معلوم ہوا پاخانے کا یہ حکم نہیں خواہ کسی مکان میں ہوتے یا جنگل میں کیونکہ بلا ضرورت ستر کھولنا جائز نہیں اسی لئے علماء کہتے ہیں کہ تنہائی بلکہ اندھیرے میں بھی بلاضرورت ننگا نہ رہے،رب تعالٰی سے شرم کرے۔سبحان اﷲ!کیسی نفیس تعلیم ہے۔
|
347 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ وَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تمہارے لیئے ایسا ہوں جیسے بیٹے کے لئے باپ ۱؎تمہیں سکھاتا ہوں جب تم پاخانے جاؤ تو قبلہ کو منہ نہ کرو،اور نہ پیٹھ۲؎ اور تین پتھروں کا حکم دیا اورلِیدوہڈی سے منع فرمایا اور منع فرمایا کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۳؎(ابن ماجہ،دارمی) |
۱؎ یعنی شفقت و محبت اورتعلیم میں مَیں تمہارے والد کی مثل ہوں۔اور ادب،اطاعت اور تعظیم میں تم میری اولاد کی مثل ہو۔خیال رہے کہ بعض احکام شرعیہ میں بھی حضور ساری امت کی باپ ہیں،تمام جہان کے والد آپ کے قدم مبارک پر قربان اسی لیے ان کی بیویاں بحکم قرآن مسلمانوں کی مائیں ہیں کہ ان سے نکاح ہمیشہ حرام اورکسی عورت کو آپ سے پردہ کرنا فرض نہیں۔اسی لیے سارے مسلمان بحکم قرآن آپس میں بھائی ہیں،کیونکہ اس رحمت والے نبی کی اولاد ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھائی کہنا حرام ہے۔اس کی بحث ہماری کتاب "جاءالحق"میں دیکھو۔
۲؎ جنگل میں ہویا آبادی میں،آڑمیں ہو یا کھلےمیدان میں۔بہرحال کعبے کو منہ یا پیٹھ کرکے پیشاب پاخانہ نہ کرو۔یہ حدیث امام اعظم کی کھلی ہوئی دلیل ہے چونکہ اس میں کسی جگہ کی کوئی قید نہیں۔
۳؎ اس ممانعت کی وجوہ پہلے بیان کی جاچکی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سواءان ممنوعہ چیزوں کے ہر اس چیز سے استنجاء جائز ہے جو صفائی کرسکے،لکڑی،ڈھیلہ،پتھروغیرہ۔ہاں کاغذسے استنجاءممنوع اگرچہ سادہ ہی ہو،کیونکہ اس پراﷲ اوررسول کا نام لکھا جاسکتا ہے،لہذا محترم ہے۔(مرقاۃ)نیز نوکیلی وغیرہ چیزوں سے استنجاء ممنوع ہے کہ نقصان پہنچاتی ہیں۔خیال رہے کہ انسان جنات اور جانوروں کی خوراک سے استنجاء ممنوع ہے،جیسا روٹی کے سوکھے ٹکڑے،گھاس،بھوسہ،کوئلہ پتے وغیرہ کہ یہ سب قابل حرمت ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع