دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

برچھے کو سترہ بنا کر دو نفل وضو کے پڑھتے تھے۔اب بعض بزرگوں کے ساتھ گولے والاعصاءرہتا ہے انہی مصلحتوں سے اس کا ماخذ یہی حدیث ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

343 -[10]

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ. وَفِي رِوَايَتِهِ وَضَعَ بَدَلَ نزع

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۱؎ اسے ابوداؤد،نسائی اور ترمذی نے روایت کیا۔اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔اور ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ حدیث منکر ہے۲؎  اور ان کی روایت میں اتارنے کی بجائے رکھنا ہے۔

۱؎   یعنی حضور انگوٹھی پہنے پاخانہ میں نہ جاتے بلکہ یا تو اتار کر باہر ہی رکھ جاتے یا جیب میں ڈال لیتے تھے،کیونکہ اس میں لکھا تھا محمد رسول اﷲ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جس چیز میں اﷲ تعالٰی یا انبیائے کرام کا نام لکھا ہواس کا ادب کرے،اسے گندگی میں نہ ڈالے،پاخانہ میں نہ لے جائے،جیسے تعویذ وغیرہ جس میں اسمائے الہیہ یا آیات قرآنیہ ہوں۔دوسرے یہ کہ اگر یہ چیزیں غلاف میں ہوں تو پھر لے جانا جائز ہے،اسی لئے تعویذ کا موم جامہ کرلیتے ہیں اور مقطعات قرآنیہ کی انگوٹھی پر شیشہ یا کانچ لگا لیتے ہیں۔(مرقاۃ وغیرہ)

۲؎ کیونکہ اس کی اسناد میں ابو عبداﷲ ھمام ابن یحیی ابن دینار رازدی ہیں،مگر ہمام کی مسلم و بخاری نے توثیق و تعریف کی اسی لیے ترمذی نے اسے حسن و صحیح فرمایا۔غرض کہ ہمام میں اختلاف ہے،بعض نے ان پر جرح کی،بعض نے توثیق تعدیل،اور جب جرح و تعدیل میں اختلاف ہو تو تعدیل کا اعتبار ہوتا ہے،لہذا یہ حدیث صحیح قابل سند ہے۔

344 -[11]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْبَرَازَ انْطَلَقَ حَتَّى لَا يرَاهُ أحد. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے جانے کا ارادہ کرتے تو وہاں جاتے جہاں آپ کو کوئی نہ دیکھتا ۱؎(ابوداؤد)

۱؎  یعنی یا تو درخت یا دیوار کے پیچھے بیٹھتے اور اگر چٹیل میدان ہوتا تو اتنی دور تشریف لے جاتے جہاں کسی کی نگاہ نہ پڑ سکتی۔بعض نے فرمایا کہ اتنی چھوٹی دیوار کہ جو بیٹھے ہوئے کو چھپا سکے آڑ کے لئے کافی ہے،مگر بعض کے نزدیک قد آدم آڑ کا ہونا مناسب ہے۔(اشعۃ اللمعات)

345 -[12]

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَأَتَى دَمِثًا فِي أَصْلِ جِدَارٍ فَبَال ثُمَّ قَالَ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فليرتد لبوله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھاحضور نے پیشاب کا ارادہ کیا تو دیوا رکی جڑ میں نرم زمین پر گئے،پھر پیشاب کیا پھر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بھی پیشاب کرنا چاہے تو پیشاب کے لئے نرم جگہ ڈھونڈے ۱؎(ابوداؤد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن