30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی راستہ عام طور پر جہاں مسلمانوں کا گزر گاہ ہو وہاں پاخانہ نہ کرو،یوں ہی جس سایہ میں لوگ دھوپ کیوقت عمومًا بیٹھتے لیٹے ہوں وہاں نہ کرو کہ اس سے رب تعالٰی بھی ناراض ہوتا ہے،لوگ بھی برا کہتے ہیں۔لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلستان میں حاجت قضا فرمائی کیونکہ وہ جگہ لوگوں کے آرام کی نہ تھی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ پانی کے گھاٹ اورگزر گاہ عوام پر پاخانہ نہ کرے اور کسی کی ملک زمین میں اس کی بغیر اجازت نہ کرے۔
|
340 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا شرب أحدكُم فَلَا ينتنفس فِي الْإِنَاءِ وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ» |
روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی پیے تو برتن میں سانس نہ لے۲؎ اور جب پاخانے جائے تو پیشاب گاہ داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۳؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ آپ کا نام حارث ا بن ربعی یا ابن نعمان ہے،انصاری ظفری ہیں،بیعت عقبہ اورتمام غزوات میں شامل ہوئے،بدریااحد میں آپ کی آنکھ نکل پڑی تھی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ ٹکا کر اپنا لعاب شریف لگادیاتو دوسری آنکھ سے زیادہ روشن ہوگئی،ابو سعید خدری کے اخیافی یعنی ماں شریکےبھائی ہیں،ستر سال عمر پائی ۵۴ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۲؎ بلکہ برتن منہ سے علیحدہ کرکے سانس لے تاکہ تھوک یا رینٹ پانی میں نہ پڑے،نیز سانس میں اندر کی گرمی اور زہریلا مادہ ہوتا ہے جو پانی میں مل کر بیماری پیدا کرتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ چائے وغیرہ گرم چیز میں پھونکیں مارنا منع ہے۔
۳؎ کیونکہ داہنا ہاتھ کھانے پینے اور تسبیح وتہلیل شمار کرنے کے لیے ہے،لہذا اسے گندے کام میں استعمال نہ کرے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ اسی طرح زبان و آنکھ و کان کو گناہوں میں استعمال نہ کرے کہ یہ چیزیں اﷲ کا ذکرکرنے قرآن دیکھنے و سننے کے لیے ہیں۔
|
341 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: (قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فليوتر " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں،فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو وضوکرے ناک میں پانی لے اور جو استنجاءکرے وہ طاق کرے ۱؎(بخاری ومسلم) |
۱؎ معلوم ہوا کہ وضو میں ناک میں پانی لےکر صاف کرناسنت ہے۔اور پاخانہ کے بعد ڈھیلوں سے استنجاء کرنا اور طاق ڈھیلے لینا سنت ہے۔پانی سے استنجاء بعض صورتوں میں فرض ہے،بعض میں واجب،بعض میں سنت ہے۔
|
342 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً يستنجي بِالْمَاءِ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن اور برچھا لیتے آپ پانی سے استنجاءکرتے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ وہ دوسرے صاحب حضرت ابن مسعود تھے یا ابوہریرہ یا بلال رضی اللہ عنہم جن کے ذمہ یہ خدمات تھیں،پانی سے تو آپ ڈھیلوں کے بعد استنجاءکرتے تھے اور برچھے سے یا زمین سے ڈھیلا نکالتے،یا پیشاب کے لئے جگہ نرم کرتے تھے،یا پیشاب کے بعد وضوکرتے،پھر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع