30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاخانے کے آداب کا باب ۱؎
۱؎ خلاءلغت میں خالی جگہ کو کہتے ہیں۔اصطلاح میں آبدست کو،چونکہ یہ کام تنہائی میں ہوتا ہے اس لئے اسے خلاکہاجاتاہے۔
|
334 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ الشَّيْخ الإِمَام محيي السّنة:هَذَا الْحَدِيثُ فِي الصَّحْرَاءِ وَأَمَّا فِي الْبُنْيَانِ فَلَابَأْس لما رُوِيَ: |
روایت ہے ابو ایوب انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم پاخانہ جاؤ تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ لیکن یا تو پورب کی طرف ہوجاؤ یا پچھم کی طرف ۲؎ (مسلم،بخاری) فرمایا شیخ امام محی السنۃ رحمۃ اﷲ علیہ نے کہ یہ حدیث جنگل کے متعلق ہے،لیکن آبادی میں کوئی حرج نہیں، |
۱؎ آپ کا نام خالدابن زیدہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،بیعت عقبہ میں موجود تھے،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضور نے ہجرت کے دن اولًا انہی کے گھر قیام فرمایا،صحابہ رضی اللہ عنھم کے اختلاف کے وقت حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ تمام جنگوں میں شامل رہے،یزید ابن معاویہ کی سرکردگی میں جو روم پر جہاد ہوئے ان میں آپ غازیانہ شان سے شامل تھے،قسطنطنیہ پر حملہ کے وقت بیمارہوگئے،وصیت کی کہ اس جہاد میں میری میت اپنے ساتھ رکھنا،اور قسطنطنیہ فتح ہوجائے تومجاہدین کے قدموں کے نیچے مجھے دفن کرنا،چنانچہ آپ قسطنطنیہ کی فصیل کے نیچے مدفون ہیں،آپ کی قبر زیارت گاہ خواص و عام ہے۔بیماران کی قبر کی مٹی سے شفا پاتے ہیں۔(مرقاۃ و اکمال)
۲؎ یعنی پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرنا حرام ہے۔چونکہ مدینہ منورہ میں قبلہ جانب جنوب ہے اور شام یعنی بیت المقدس جانب شمال،وہاں کے لحاظ سےفرمایا گیا کہ شرق یاغرب کو منہ کرلو۔چونکہ ہمارے ہاں قبلہ جانب مغرب ہے لہذا ہم لوگ جنوب یا شمال کو منہ کریں گے۔خیال رہے کہ اس حدیث میں جنگل یا آبادی کی کوئی قید نہیں۔بہرحال کعبہ کو منہ یا پیٹھ کرکے استنجا کرنا حرام ہے۔حنفیوں کا یہی مذہب ہے۔
|
335 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن عبد الله بن عمر قَالَ: ارْتَقَيْتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْضِي حَاجته مستدبر الْقبْلَة مُسْتَقْبل الشَّام |
اس لیئے کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت حفصہ کے گھر کی چھت پر کسی کام کے لیئے چڑھا تو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبلہ کو پیٹھ شام کی طرف منہ کئے قضائے حاجت فرما رہے ہیں ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ امام محی السنۃ کے اس فرمان میں چند طرح گفتگو ہے:ایک یہ کہ ممانعت کی حدیث میں جنگل یا آبادی کی قید نہیں،مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا ضروری ہے۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنھما کی یہ روایت حضور کا ایک فعل شریف بیان کررہی ہے اور جب فعل وقول میں،نیز ممانعت اور اباحت میں تعارض معلوم ہو توحدیث قولی کو فعلی پر اور ممانعت کو اباحت پر ترجیح ہوتی ہے،کیونکہ حضور صلی اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع