30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابن عمر چھونے اور بوسہ کو لمس فرما رہے ہیں۔لہذا یہ حدیث امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کی دلیل ہے۔اس کا جواب ان شاءاﷲ ہم ابھی آگے دے رہے ہیں۔
|
331 -[32] وَعَن ابْن مَسْعُود كَانَ يَقُولُ: مِنْ قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ الْوُضُوءُ. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ فرماتے تھے کہ مردکو اپنی بیوی کا بوسہ لینے سے وضو ہے ۱؎(مالک) |
۱؎ یعنی حضرت ابن مسعود کی بھی رائے یہی ہے کہ عورت کا چومنایاچھوناباعث وضوءہے۔اس کا جواب آگے آرہا ہے۔
|
332 -[33] وَعَن ابْن عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِن الْقبْلَة من اللَّمْس فتوضؤوا مِنْهَا |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بوسہ لمس سے ہے لہذا اس سے وضو کرو ۱؎ |
۱؎ خیال رہے کہ ان تینوں بزرگوں کا اپنا قول یہ ہے کہ عورت کو چھونے اور بوسہ سے وضو ہے۔اس بارے میں حدیث مرفوع کوئی نہیں بلکہ حدیث مرفوع اس کے خلاف ہے۔چنانچہ دارقطنی میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کو جب حضرت ابن عمر کا یہ قول پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ بوسے سے وضو کیسے ہوسکتا ہے،حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے تھے اور بغیر وضو کئے نماز پڑھ لیتے تھے۔ نیز ابن ماجہ،ترمذی،ابوداؤ،ابن ابی شیبہ،نسائی،ابن عساکرموطاءامام محمد وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ سے تھوڑے اختلاف کے ساتھ روایات ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج کا بوسہ لیتے تھے اور پھر بغیر وضو کئے نماز پڑھ لیتے تھے،نیز مسندابوعبداﷲ میں حضرت حفصہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرکے بعض ازواج کا بوسہ لیتے اورپھردوبارہ وضو نہ فرماتے،نیز جیسے اس بوسہ سے عورت کا وضو نہیں جاتا تو چاہیئے کہ مرد کا بھی نہ جائے،مباشرت عورت ومرد دونوں کا وضو توڑتی ہے اورصحبت دونوں کا غسل۔تو کیسے ہوسکتا ہے کہ بوسہ یا چھونا مرد کا تو وضو توڑے،عورت کا نہ توڑے۔لہذا ان موقوف احادیث کا یہ مطلب ہے کہ عورت کو چھوکریابوسہ لے کر وضو کرنا مستحب ہے کیونکہ لُغَۃً لَمْس میں یہ بھی داخل ہے،اگرچہ یہ قرآن میں مراد نہیں،یا ان بزرگوں کو ہماری پیش کردہ روایات پہنچی ہی نہیں۔بہرحال حدیث مرفوع کے مقابل حدیث موقوف معتبر نہیں،حتی الامکان دونوں میں مطابقت کی جائے اگر مطابقت نہ ہوسکے تو موقوف چھوڑ دی جائے،چھونے کی حدیث ہم پہلے پیش کرچکے ہیں کہ عائشہ صدیقہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں شریف نمازمیں چھوا ہے،اور عائشہ صدیقہ کو عین نماز میں حضور نے چھوا ہے اور سرکار دونوں موقعوں پر نماز پڑھتے رہے۔ بہرحال مذہب حنفی نہایت قوی ہے،اسی کمزوری کی وجہ سے امام شافعی نے آخر میں یہ فرمایا کہ اجنبی عورت کے چھونے سے وضو جاتا ہے نہ کہ اپنی بیوی کو۔مسند امام ابوحنیفہ میں ہے کہ عبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں بوسہ میں وضو نہیں۔شیخ عبدالحق نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ یہ تینوں مشکوٰۃ کی موقوف حدیثیں اسنادًا صحیح نہیں۔
|
333 -[34] وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ» . رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيُّ وَقَالَ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَلَا رَآهُ وَيَزِيدُ بن خَالِد وَيزِيد بن مُحَمَّد مَجْهُولَانِ |
روایت ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے وہ تمیم داری سے ۱؎ راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بہتے خون سے وضو ہے۲؎ ان دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیااور فرمایا کہ عمربن عبدالعزیز نے تمیم داری سے نہ سنا نہ انہیں دیکھااور یزیدابن خالداور یزیدابن محمدمجہول لوگ ہیں۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع