30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانی اور مصالحہ عالم غیب ہی سے آرہا تھا۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے سامنے ایسے موقع پر انکار یا تردد نہ چاہیئے،بلکہ بے دریغ ان کے حکم پرعمل چاہیئے،بحث و انکار سے فیض بندہوجاتا ہے۔
۴؎ یعنی پورا ہاتھ تو کیا،پوری انگلیاں بھی نہ دھوئیں بیان جواز کے لئے ورنہ کھانے سے اوّل اور بعد دونوں ہاتھ دھونا سنّت ہے۔
۵؎ غالبًا پہلی با رنفل پڑھے ہوں گے اور دوبارہ فرائض۔واللّٰہ اعلم!
|
اور دارمی نے ابو عبید سے روایت کیا،مگر انہوں نے "ثُمَّ دَعَا"الخ کا ذکر نہ کیا۔ |
328 -[29] وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ إِلَى آخِرِهِ |
|
329 -[30] وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ فَقَالَا لِمَ تَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا فَقَالَا أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْك. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت انس بن مالک سے فرماتے ہیں کہ میں اوراُبی اور ابوطلحہ ۱؎ بیٹھے ہوئے تھے ہم نے گوشت و روٹی کھائی پھر میں نے وضو کا پانی منگایا۲؎ تو ان دونوں نے فرمایا کہ کیوں وضو کرتے ہو،میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایاوہ بولے کیا تم حلال چیزوں سے وضو کرتے ہو؟۳؎ اس سے تو انہوں نے بھی وضو نہ کیا جو تم سے بہتر ہیں۔(احمد) |
۱؎ آپ کا نام زیدابن سہل ہے،کنیت ابوطلحہ،انصاری ہیں،نجاری ہیں،حضرت انس کے سوتیلے والد ہیں،۷۷ سال عمر پائی، ۳۱ھ میں سمندر کا سفرکیا،جزیرہ میں وفات ہوئی،نو دن کے بعد وہیں دفن ہوئے،بیعت عقبہ اوربدر وغیرہ تمام غزوات میں شامل رہے۔
۲؎ کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ وضوءطعام کی حدیث میں وضوء کے شرعی معنی سمجھتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ محدث بغیر فقیہ کی رائے کے حدیث پر عمل نہ کرے اسی لیے امام ترمذی وغیرہم مقلد ہوئے۔
۳؎ یعنی وضوء پاکی ہے کسی ناپاک چیز سے ہوناچاہیئے اورکھانا حرام ہے نہ نجس پھروضو کیسا۔اس سےمعلوم ہوا کہ عورت کو چھونے سےبھی وضو نہیں جائے گا کہ وہ بھی نہ حرام ہے نہ نجس۔
|
330 -[31] وَعَن ابْن عمر كَانَ يَقُولُ: قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسُّهَا بِيَدِهِ مِنَ الْمُلَامَسَةِ. وَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَعَلَيهِ الْوضُوء. رَوَاهُ مَالك وَالشَّافِعِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے تھے کہ مرد کو اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے اپنے ہاتھ سے چھونا ملامست ہے،جو اپنی بیوی کو چومے یا اپنے ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو ہے ۱؎ (مالک وشافعی) |
۱؎ سورۂ نساءاورسورۂ مائدہ میں آیت کریمہ ہے:"اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْلٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا"یعنی اگر کوئی تم میں سے پاخانے سے آئے یا تم عورتوں کو چھوؤ اور نہ پاؤ پانی،تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔امام شافعی کے نزدیک یہاں لمس کے معنی فقط عورت کو ہاتھ لگانا ہیں کہ اس سے ان کے ہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ہمارے ہاں لمس سے مراد صحبت کرناہے جس سے غسل واجب ہوتا ہے۔اورہوسکتا ہے کہ مباشرت مراد ہو،یعنی ننگا چپٹنا جس سے وضو واجب ہوتا ہے۔حضرت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع