دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۱؎  نہ وضو شرعی نہ لغوی،یعنی ہاتھ دھونا بلکہ ہاتھ پونچھے بھی نہیں تاکہ معلوم ہو کہ کھانے کے بعد ہاتھ دھونایا پونچھنا فرض یا واجب نہیں،سنت ہے جس کے کرنے پرثواب،نہ کرنے پر گناہ نہیں۔

 

الفصل الثالث

تیسری فصل

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری کا پیٹ بھونتا تھا ۱؎  پھر حضور نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے۔(مسلم)

326 -[27]

عَن أبي رَافع قَالَ: أَشْهَدُ لَقَدْ كُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ ثُمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ. رَوَاهُ مُسلم

۱؎  یعنی پیٹ کی چیزیں دل،کلیجی،تلی وغیرہ۔مگر گردے حضور کو ناپسند تھے کیونکہ ان کا تعلق پیشاب سے ہے۔

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میرے پاس بکری ہدیۃً بھیجی گئی اسے ہانڈی میں ڈالا،پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا ابو رافع !یہ کیا ہے؟ عرض کیا یارسول اﷲ یہ بکری ہے جو ہمیں ھدیۃً ملی پھر ہم نے ہانڈی میں پکالیا،فرمایا اے ابورافع! ہم کو ایک دستی دو ۱؎  میں نے دستی پیش کی،پھر فرمایا کہ دوسرا دست بھی دو میں نے دوسرے دستی بھی پیش کی۲؎ پھر فرمایا اے ابو رافع! اور دست لاؤعرض کیا یارسول اﷲ بکری کے دو ہی دست ہوتے ہیں تب ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم خاموش رہتے تو تم ہم کو دست پر دست دیتے رہتے جب تک خاموش رہتے ۳؎  پھر پانی منگایاپھر منہ کی کلی کی اور اپنے  پَورے دھوئے ۴؎  پھر کھڑے ہوئے تب نماز پڑھی پھر واپس تشریف لائے تو ان کے پاس ٹھنڈا گوشت پایاکھایا پھر مسجد میں تشریف لائے نماز پڑھی پانی چھوا بھی نہیں۵؎  اسے احمد نے روایت کیا۔

327 -[28]

وَعَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ ثُمَّ قَالَ ناولني الذِّرَاع الآخر فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتُّ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ فَاهُ وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً. رَوَاهُ أَحْمد

۱؎ معلوم ہوا کہ اپنے غلاموں یا دوستوں سے کوئی چیز بے تکلفی سے مانگنا ناجائز نہیں۔جس سوال سے منع کیا گیا وہ ذلت کا سوال ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو  دست پسند تھاکیونکہ گلتا بھی جلدی ہے،لذیذ بھی ہوتا ہے،اس میں ریشہ یعنی دھاگہ بھی نہیں ہوتا۔

۲؎  غالبًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ  رضی اللہ عنھم کی جماعت ہوگی اور سب کے ساتھ یہ گوشت کھایا ہوگا۔

۳؎یعنی ہم مطالبہ کئے جاتے تم دیتے رہتے،اسی ہانڈی میں سے سینکڑوں دست نکل آتے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر ہرقسم کی اشیاء عالم غیب سے مہیا ہوجاتی ہے۔حضرت طلحہ کے گھر تین چار سیر گوشت سینکڑوں کو کھلا دیا،بوٹیاں اور شوربے کا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن