30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
315 -[16] وَعَن مُعَاوِيَة بن أبي سُفْيَان أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ: «إِنَّمَا الْعَيْنَانِ وِكَاءُ السَّهِ فَإِذَا نَامَتِ الْعَيْنُ اسْتطْلقَ الوكاء» . رَوَاهُ الدِّرَامِي |
روایت ہے حضرت معاویہ ابن ابی سفیان سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنکھیں سرین کا بندھن ہیں تو جب آنکھ سوگئی تو بندھن کھل گیا ۲؎ (دارمی) |
۱؎ حضرت معاویہ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔ان کے والد کا نام حرب،کنیت ابو سفیان ابن صخر ہے،اموی ہیں،قریشی ہیں،فیل کے واقعہ سے دس۱۰ سال قبل پیدا ہوئے،اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش فیل سے چالیس دن بعد ہے۔فتح مکہ کے دن ایمان لائے،حضور کے ساتھ جنگ حنین میں شریک رہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بڑے بڑے عطیہ عطا فرمائے۔جنگ طائف میں آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی اور جنگ یرموک میں دوسری آنکھ بھی شہید ہوگئی،۳۴ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے آپ سے روایات لیں۔(مرقاۃ وغیرہ)
۲؎ لہذا سونا وضوتوڑدیتا ہے جیسےموت غسل توڑ دیتی ہے مگر نبی کی نیند سے وضونہیں جاتاکیونکہ وہ غافل نہیں ہوتے اسی لیے ان کی خواب وحی الٰہی ہوتی ہے،نیزشہیدکی موت غسل نہیں توڑتی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بےخبری کی نیند وضو توڑےگی،بیٹھے بیٹھے اونگھنا وضو نہیں توڑتاکیونکہ اس میں اعضاء ڈھیلے نہیں پڑتے۔
|
316 -[17] وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وِكَاءُ السَّهِ الْعَيْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَليَتَوَضَّأ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد قَالَ الشَّيْخ الإِمَام محيي السّنة: هَذَا فِي غير الْقَاعِد لما صَحَّ: |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں،فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سرین کا بندھن آنکھیں ہیں تو جوسویا وہ وضو کرے ۱؎ اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔ شیخ امام محی السنۃ نے فرمایا کہ یہ اس کے لیئے ہے جو بیٹھا نہ ہوکیونکہ............ |
۱؎ یعنی اگر آنکھ کھلی رہے تو ریح نکلنے کی خبر رہتی ہے،سوتے ہی بےخبری ہوجاتی ہے۔لہذا اب نیند ہی ناقص مان لی گئی،خواہ ریح نکلے یا نہ نکلے،نیند کاجھونکا آیااوروضوگیا۔
|
317 -[18] عَن أنس قَالَ: كَانَ أَصَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعشَاء حَتَّى تخفق رؤوسهم ثمَّ يصلونَ وَلَا يتوضؤون. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ إِلَّا أَنه ذكرفيه: ينامون بدل: ينتظرون الْعشَاء حَتَّى تخفق رؤوسهم |
حضرت انس سے روایت صحیح مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز عشاء کا انتظار کرتے تھے حتی کہ ان کے سرجھک جاتے تھے پھرنماز پڑھ لیتے اور وضو نہ کرتے تھے ۱؎ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا مگر ترمذی نے بجائے "ینتظرون العشاء" الخ کے یہ فرمایا کہ وہ سوجاتے تھے۔ |
۱؎ لہذا جس نیند میں اعضاءڈھیلے نہ پڑیں اس سے وضو نہیں جاتا،اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اگر عورت سجدے میں سوجائے تو وضو گیا اور اگر مرد سجدے میں سوجائے تو وضو نہیں جاتاکیونکہ مردسجدے میں غافل نہیں سوسکتا ورنہ گرجائے گا۔
|
318 -[19] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْوُضُوءَ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مفاصله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وضو اس پر ہے جو لیٹ کر سوئے،کیونکہ جب وہ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ۱؎ (ترمذی وابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع