30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
311 -[12] وَعَن عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمَذْيِ فَقَالَ:«مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغسْل».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے متعلق پوچھاتو فرمایا کہ مذی سے وضو ہے اورمنی سے غسل ۱؎(ترمذی) |
۱؎ حضرت علی مرتضیٰ کا یہ سوال حضرت مقداد کے ذریعہ تھا بلاواسطہ نہ تھاجیسا کہ پہلےگزر چکا،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔منی و مذی میں یہ فرق ہے کہ منی شہوت توڑ دیتی ہے۔اور مذی بڑھا دیتی ہے۔،نیز منی دودھ کی طرح سفید اور گاڑھی لیسدار ہوتی ہے اور مذی پیشاب کی طرح مگر لیسدار۔
|
312 -[13] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ والدارمي |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز کی کنجی طہارت ہے ۱؎ اور اس کا احرام تکبیر اور اس سے کھلنا سلام ہے۲؎ اسے ابوداؤد،ترمذی اوردارمی نے روایت کیا۔ |
۱؎ کہ جیسے بغیرکنجی قفل نہیں کھلتا،ایسے ہی وضو،غسل یا تیمم کے بغیر نماز شروع نہیں ہوسکتی۔یہ حدیث امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دلیل ہے کہ جو وضو اورتیمم نہ کرسکے وہ نماز نہ پڑھے۔
۲؎ یعنی حج کا احرام تلبیہ سے بندھتا ہے کہ تلبیہ کہتے ہی حاجی پر صدہا چیزیں حرام ہوجاتی ہیں،ایسے ہی نماز کا احرام تکبیر سے بندھتاہے کہ تکبیر کہتے ہی کلام،سلام،کھانا،پینا سب حرام۔نیز جیسے حج کے احرام سے کھلنا سر منڈانے سے ہوتا ہے،ایسے ہی نماز کا احرام سے کھلناسلام سے ہوتا ہے کہ سلام پھیرتے ہی مذکورہ بالاتمام چیزیں حلال۔خیال رہے کہ تکبیرتحریمہ سب کے نزدیک فرض ہے مگر سلام امام شافعی و مالک واحمدرحمۃ اﷲ علیہم کے نزدیک فرض،اور ہمارے امام صاحب کے یہاں واجب ہے۔ان بزرگوں کی دلیل یہی حدیث ہے۔امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کی دلیل ان اعرابی کی دلیل ہے جنہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تعلیم دی اس میں سلام کا ذکر نہیں۔اگر فرض ہوتا تو ضرور ذکر فرمایا جاتا،اس حدیث کی بنا پر ہم سلام کی فرضیت کا انکار کرتے ہیں،اس حدیث کی بنا پرسلام کے وجوب کے قائل،ہمارا عمل دونوں حدیثوں پر ہے۔تکبیروسلام کے پورے مسائل کتب فقہ میں دیکھو۔
|
313 -[14] وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْهُ وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ |
اور ابن ماجہ نے بھی انہی سے اور ابوسعید سے۔ |
|
314 -[15] وَعَن عَليّ بن طلق قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا فسا أحدكُم فَليَتَوَضَّأ وَلَا تأتو النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت علی ابن طلق سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی بے آواز ہوا نکالے تو وضوکرے اور عورتوں کی دبروں سے نہ جاؤ ۲؎ (ترمذی وابوداؤد) |
۱؎ آپ حنفی یمامی ہیں،آپ سے ابن سلام نے روایت لیں۔بعض نے فرمایا کہ آپ کا نام طلق ابن علی ہے اور آپ سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
۲؎ کہ یہ پلیدی کی جگہ ہے نہ کہ اولاد کا محل۔خیال رہے کہ عورتوں کی دبرمیں صحبت حرام قطعی ہے جس کا منکر کافر ہے،مگر یہ حرمت قطعی قیاس قطعی سے ثابت ہے نہ کہ ان احادیث سے،کیونکہ یہ احادیث ظنی ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع