30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی اس کا حکم پیشاب کا سا ہے کہ نجاست حکمی بھی ہے اور حقیقی بھی۔خیال رہے کہ اگر مذی وغیرہ سے روپے برابر جگہ لتھڑ جائے تو پانی سے استنجاکرناواجب ہے۔
|
303 -[4] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «توضؤوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشَّيْخُ الإِمَام الْأَجَل محيي السّنة: هَذَا مَنْسُوخ بِحَدِيث ابْن عَبَّاس: |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جسے آگ پکائے اس سے وضو کرو ۱؎(مسلم) |
۱؎ یہاں وضو لغوی معنی میں ہے،وضاءۃ سےمشتق ہے،بمعنی صفائی۔شرعی معنی مرادنہیں۔مطلب یہ ہے کہ آگ کی پکی چیزکھاکر ہاتھ دھونا اور کلی کرنا بہتر ہے۔پھل فروٹ کھانے کے بعد اس کی ضرورت نہیں،جیسا کہ اگلی احادیث سے ظاہر ہورہا ہے،نیز ایک بارحضور علیہ ا لسلام نے گوشت کھا کر ہاتھ دھوئے،کلی کی اور فرمایا آگ کی پکی چیز کا وضو یہ ہے،اس صورت میں یہ حدیث منسوخ نہیں،کھانا کھا کر ہاتھ دھونا مستحب ہے۔
|
304 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ |
بڑے امام شیخ محی السنۃ نے فرمایا کہ یہ حکم حضرت ابن عباس کی حدیث سے منسوخ ہےجو فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا،پھر بغیر وضو کئے نماز پڑھ لی ۱؎(مسلم و بخاری) |
۱؎ صاحب مصابیح شیخ محی السنۃ نے شرح سنہ میں اس حدیث کو منسوخ مانا اس لئے کہ انہوں نے وضو شرعی معنے میں لیا اور امرو جوب کے لیے،لیکن ہماری پیش کردہ توجیہ پر حدیث منسوخ نہیں،نسخ میں تاریخ کا معلوم ہونا ضروری ہے۔نیزقولی حدیث فعلی سے منسوخ جب ہوسکتی ہے جب وہ فعل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے نہ ہو،اس لئے مناسب یہی ہے کہ حدیث منسوخ نہ مانی جائے۔
|
305 -[6] وَعَن جَابر بن سَمُرَة أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَتَوَضَّأْ» . قَالَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مبارك الْإِبِل؟ قَالَ: «لَا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎ کہ ایک صاحب نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم بکری کے گوشت سے وضو کریں؟فرمایا اگر چاہوکرو چاہو نہ کروعرض کیا کہ کیا ہم اونٹ کے گوشت سے وضو کریں؟فرمایا ہاں اونٹ کے گوشت سے وضو کرو۲؎ عرض کیا کہ میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟فرمایا ہاں عرض کیا کہ کیا اونٹوں کے طویلہ میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟فرمایا نہیں۳؎ (مسلم) |
۱؎ آپ کی کنیت ابوعبداﷲ ہے،قبیلہ بنی عامر سے ہے،سعدابن ابی وقاص کے بھانجے ہیں،صحابی اورصحابی زادہ ہیں،کوفے میں رہے، ۷۴ھ میں وفات ہوئی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع