30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب ۱؎
پہلی فصل
۱؎ آٹھ چیزیں وضو توڑ دیتی ہیں:جو کچھ پیشاب یا پاخانہ کی راہ نکلے،منہ بھر قے،بہتا خون،بے ہوشی،نشہ،غفلت کی نیند،رکوع سجدے والی نماز میں آواز سے ہنسنا،مباشرت۔
|
300 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يتَوَضَّأ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وضو کی نماز قبول نہیں یہاں تک کہ وضو کرے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ قبول سے مراد نماز کا جائز ہونا ہے اور وضو سے حقیقی اور حکمی دونوں وضو مراد ہیں یعنی تیمم بھی۔بے وضو کی نماز بغیر وضو یا تیمم جائز نہیں۔احناف کے نزدیک جسے وضو کے لائق پانی اورتیمم کے لائق مٹی نہ ملے وہ نماز قضا کرے،اور اگر قضا کا موقع پانے سے پہلے فوت ہوگیا تو اس پر گناہ نہیں۔یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ عمدًا بے وضو پڑھنا کفر ہے جب کہ نمازکو ہلکا جانتا ہو۔
|
301 -[2] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ».رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ بغیر پاکی کے نماز قبول اور نہ خیانت کے مال سے صدقہ و خیرات قبول ہے ۱؎(مسلم) |
۱؎ یہاں طہارت سے وضو اورغسل دونوں مراد ہیں اور خیانت سے سارے حرام مال مراد،یعنی پاک ہو کر نماز پڑھو،اور حلال مال سے خیرات کرو،حرام مال اس کے مالک کو واپس کرو،اگر مالک کا پتا نہ چلے تو ا سکے مالک کی طرف سے خیرات کردو کہ اس کے لیے یہ حلال ہے۔
|
302 -[3] وَعَن عَليّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيتَوَضَّأ» |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں بہت مذی والا تھا اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے بھی شرماتا تھا آپ کی صاحبزادی کی وجہ سے ۱؎ تو میں نے مقداد سے کہاانہوں نے حضور سے پوچھا تو فرمایا کہ شرمگاہ دھولیں اور وضو کرلیں۲؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ شہوت کے وقت جو پتلا لیسدار پانی نکلتا ہے وہ مذی ہے۔پیشاب کے بعد جو سفید قطرہ آجاتا ہے وہ ودی کہلاتاہے۔ان دونوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے نہ کہ غسل۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بزرگوں سے حیاو غیرت کرنا کمال ایمان کی دولت ہے،ہاں حیا کی وجہ سے مسئلہ ہی نہ پوچھنا،بے علم رہنا گناہ ہے۔علی مرتضی نے مسئلہ بھی معلوم کرلیا اور حیاء بھی قائم رکھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع