30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی ان کی کوتاہی کا اثر ہم پر یہ پڑتاہے کہ تلاوت میں لقمہ لگ جاتا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا اس سےمعلوم ہوا کہ حضور جیسی ہستی کی نماز پر ناقص الوضو کی صحبت کا اثر ہوجاتا ہے۔تو افسوس ان لوگوں پر جو بدکاروں اور بے دینوں کی صحبت میں رہیں یقینًا انکا ایمان بھی برا اثر لے گا یہ بیماری اڑکرلگتی ہے۔
|
296 -[16] وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ قَالَ: «التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ |
روایت ہے بنی سُلَیم کے ایک صاحب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یا اپنے ہاتھ یہ چیزیں گنائیں فرمایا تسبیح آدھی ترازو ہے اور الحمدﷲ اسے بھردے گی ۲؎ اور تکبیر آسمان و زمین کے درمیان کو بھر دیتی ہے اور روزہ آدھا صبرہے۳؎ اور پاکی آدھا ایمان ہے اسے ترمذی نے روایت کیااورفرمایا یہ حدیث حسن ہے۔ |
۱؎ ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ سارے صحابہ عادل ہیں۔لہذا ان کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں۔
۲؎ اس کی شرح گزر چکی کہ نیکیوں کا پلہ ان دوکلموں کے ثواب سے بھر جائے گا اس لیئے کہ تسبیح میں اﷲ کی بے عیبی کا اقرار ہے اورحمد میں اس کے صفات کمالیہ کا اظہار۔
۳؎ کیونکہ حلق اور شرمگاہ کو روزہ روکتا ہےباقی اعضاءکو دوسرا صبر،یا ظاہری گناہ سے روزہ روکتا ہے،باطنی گناہوں سے دوسرا صبریا ایمان طاعت پھر اور گناہوں سے صبرکراتا ہے جس کا سبب نفس کی شہوت ہے اور روزے سے ٹوٹتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ تمام قسم کے صبر ایک جانب اور روزہ ایک جانب۔
|
297 -[17] عَن عبد الله الصنَابحِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ وَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنفه فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غسل يَدَيْهِ خرجت الْخَطَايَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ» . رَوَاهُ مَالك وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے عبداﷲ صنابحی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندۂ مؤمن جب وضو کرنے لگے تو خطائیں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں۲؎ اور جب ناک میں پانی لے تو خطائیں اس کے ناک سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنا منہ دھوئے خطائیں اس کے چہرے سے نکل جاتی ہیں۳؎ حتی کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے نکلتی ہیں،اور جب اپنے ہاتھ دھوئے تو خطائیں ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنے سر کا مسح کرے تو خطائیں اس کے سر سے نکل جاتی ہیں حتی کہ اس کے کانوں سے نکل جاتی ہیں۴؎ پھر جب پاؤں دھوئے تو خطائیں اس کے پاؤں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں۵؎ پھر اس کا مسجد کی طرف جانا اور نماز پڑھنا زیادتی ہوتی ہے۶؎(مالک ونسائی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع