30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی ہمیشہ باوضو رہنایاہمیشہ صحیح وضو کرنا کامل مؤمن کی پہچان ہے۔
|
293 -[13] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو پاکی پر وضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی جس کا پچھلی نماز کا وضو ہو اور پھر اگلی نماز کے لئے وضو کرے تو یہ وضو بیکاروعبث نہیں ہے،بلکہ اس پر بہت ثواب ہے۔خیال رہے کہ وضو پر وضومستحب ہے جب کہ پہلے وضو کے بعد نماز یا ایسی عبادت کرلی گئی ہو جو وضوء پرموقوف ہو،ورنہ باربار وضوء کیے جانا مکروہ اور پانی کا اسراف ہے۔لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اورنہ فقہ کا مسئلہ اس حدیث کے خلاف ہے۔
|
294 -[14] عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاة الطّهُور» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی پاکی ۱؎(احمد) |
۱؎ یعنی جنت کے درجات کی چابی نماز ہے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ جنت کی چابی کلمۂ طیبہ ہے کہ وہاں نفس جنت کی چابی مراد ہے،اگرچہ نماز کی شرائط بہت ہیں وقت،قبلہ کو منہ ہونا وغیرہ،لیکن طہارت بہت اہم ہے اسی لئے اسے نماز کی چابی فرمایا گیا۔
|
295 -[15] وَعَن شبيب بن أبي روح عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الطَّهُورَ فَإِنَّمَا يلبس علينا الْقُرْآن أُولَئِكَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے شبیب ابن ابی روح سے ۱؎ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے راوی ۲؎ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھی سورۂ روم کی قرأت کی تو آپ کو متشابہ لگ گیا جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا لوگوں کا کیا حال ہے کہ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔طہارت اچھی طرح نہیں کرتے۳؎ ہم پر یہ ہی لوگ قرآن مشتبہ کردیتے ہیں۴؎(نسائی) |
۱؎ آپ تابعین سے ہیں،حمص کے رہنے والے،آپ کے والد کا نام نعیم،کنیت ابو روح ہے،نہ خود صحابی ہیں نہ والد۔
۲؎ چونکہ تمام صحابہ پرہیز گار اور عادل ہیں کوئی فاسق نہیں اسی لئے اس طرح روایت جائز ہے۔صحابہ کے علاوہ اورراوی کا نام لینا ضروری ہے ورنہ حدیث مجروح ہوگی،کیونکہ نامعلوم وہ شخص فاسق ہے یا عادل۔غالبًا یہ صحابی اَغَرّغِفَارِی ہیں۔(مرقاۃ)
۳؎ یعنی وضوء وغسل کی سنتیں و مستحبات پورے ادا نہیں کرتےکیونکہ وضوء میں واجب کوئی نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع