30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گے۔خیال رہے کہ حضور کا اپنی امت کو پہچاننا اس نورپرموقوف نہ ہوگا کیونکہ آپ نیک کارنورانیوں کوبھی پہچانیں گے اورگنہگارظلمانیوں کوبھی۔
۲؎ غالبًا یہ آخری جملہ سیدنا ابوہریرہ کا ہے۔مطلب یہ ہے کہ اعضائے وضوءحدمفروض سے زیادہ دھوئے تاکہ روشنی اور چمک لمبی ہو اورممکن ہے کہ سرکار کا فرمان ہو۔مطلب یہ ہے اعضائے وضوء حد سے کم نہ دھوؤ،زیادہ کچھ دھل جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔خیال رہے کہ غرّہ چہرے کی سفیدی کو کہتے ہیں اور تحجیل ہاتھ پاؤں کی سفیدی کو۔چونکہ اکثر لوگ چہرہ دھونے میں بے احتیاطی کرتے ہیں کہ کنپٹی وغیرہ خشک رہ جاتی ہے لہذا اس کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔
|
291 -[11] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنَ حَيْثُ يبلغ الْوضُوء» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ مؤمن کا زیوروہاں تک ہی پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ حِلْیَہْ ح کے کسرہ سے،بمعنی رونق وحسن ہے اور ح کے زبر سے بمعنی زیور۔حدیث میں دونوں قرأتیں ہیں،وضوءواؤ کے پیش سے اس ہی مشہوروضوءکو کہتے ہیں اور واؤ کے زبر سے وضوء کا پانی۔یہاں واؤ کے زبر سے ہے یعنی جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا وہاں تک نوراوررونق وزینت ہوگی یا وہاں تک زیور پہنایا جائے گا۔دنیا میں مسلمان مرد کو زیور پہننا حرام تاکہ وہ جہاد کی شجاعت نہ کھو بیٹھے جنت میں زیوروہاں کی نعمتوں میں سے ہوگا۔
|
292 -[12] عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ |
روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سیدھے رہو مگر تم یہ کر نہ سکو گے۲؎ اور جان رکھو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے۳؎ اور وضوءکی حفاظت مؤمن ہی کرتا ہے ۴؎ اسے مالک،احمد،ابن ماجہ،اور دارمی نے روایت کیا۔ |
۱؎ آپ کا نام ثوبان ابن بُجْدَدْ،کنیت ابو عبداﷲ ہے،حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں،ہمیشہ سفر و حضر میں حضور کے ساتھ رہے،حضور کے بعد اولًا شام میں،پھر حمص میں قیام فرمایا،۵۴ ھ میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی عقائد،عبادات اور معاملات میں ٹھیک رہو ادھر ادھر نہ بہکو،لیکن پوری درستی طاقت انسانی سے باہر ہے۔لہذا بقدر طاقت درست رہو اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے رہو،یا یہ مطلب ہے کہ استقامت کا ثواب تم شمار نہ کرسکو گے۔اِحْصَاء بمعنے کنکریوں پر گننا،تھوڑی چیز پوروں پر اور زیادہ چیز کنکروں پر گنی جاتی ہے،جو کنکر پر بھی نہ گنی جائے وہ شمار سے باہر ہوتی ہے۔
۳؎ کیونکہ اسلام میں سب سے پہلے نماز ہی فرض ہوئی،سارے اعمال فرش پر آئے مگر نماز عرش پر بلا کردی گئی،جس نے نماز درست کرلی ان شاءاﷲ اس کے سارے اعمال درست ہوجائیں گے،نیز نماز بہت سی عبادات کا مجموعہ اور سارے گناہوں سے بچانے والی ہے کہ بحالت نمازجھوٹ،غیبت وغیرہ کچھ نہیں ہوسکتی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع