30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف خیال نہ دوڑائے،بلا قصد خطرات معاف ہیں۔جیسا کہ لمعات اور مرقاۃ میں ہےبشرطیکہ دفع کی کوشش کرتا رہے۔گناہ سے مراد گناہ صغیرہ ہیں اور بے گناہ لوگوں کے درجے بلند ہوتے ہیں،کیونکہ جو کام گنہگاروں کے لئے معافی کا ذریعہ ہے وہ نیک کاروں کی ترقی کا سبب۔
|
288 -[8] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مقبل عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو وضو کرے تو اچھا کرے پھر کھڑے ہوکردونفل دل اور منہ سے متوجہ ہوکر پڑھے۲؎ مگر اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۳؎(مسلم) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ امیرمعاویہ کی طرف سے حاکم مصر تھے اپنے بھائی عتبہ ابن ابی سفیان کے بعد،پھر اگرچہ معزول کردیئے گئے مگر مصر میں ہی قیام رہا، ۵۸ھ میں وہیں وفات ہوئی۔
۲؎ یعنی ظاہروباطن یکسو کرکےکہ نہ جسم سے کھیلے،نہ ادھر ادھر دیکھے،نہ دل کو اورطرف لگائے۔
۳؎ رب کے فضل وکرم سے اس طرح کہ دنیا میں اسے نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے،مرتے وقت ایمان پر قائم رہتا ہے،قبروحشر میں آسانی سے پاس ہوتا ہے۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ صرف وضوکرلینے اور تحیۃ الوضوء کے دونفل پڑھ لینے سےجنتی ہوگیا اب کسی عمل کی ضرورت نہ رہی اس قسم کی احادیث کا یہی مطلب ہوتا ہے۔
|
289 -[9] وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ أَوْ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَفِي رِوَايَةٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ ". هَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ وَالْحُمَيْدِيُّ فِي أَفْرَاد مُسلم وَكَذَا ابْن الْأَثِير فِي جَامع الْأُصُول وَذكر الشَّيْخ مُحي الدِّينِ النَّوَوِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثِ مُسْلِمٍ عَلَى مَا روينَاهُ وَزَاد التِّرْمِذِيّ:«الله اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ» وَالْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ مُحْيِي السُّنَّةِ فِي الصِّحَاحِ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ» إِلَى آخِرِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي جَامِعِهِ بِعَيْنِهِ إِلَّا كَلِمَةَ «أَشْهَدُ» قَبْلَ «أَن مُحَمَّدًا» |
روایت ہے حضرت عمرابن خطاب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں ایسا کوئی نہیں جو وضوکرے تو مبالغہ کرے یا پورا وضو کرے ۱؎ پھر کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینًا محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودنہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اور محمداس کے بندے اور رسول ہیں ۲؎ مگر اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھولے جائیں گے کہ جس سے چاہے گھسے۳؎ ایسے ہی مسلم نے اپنی صحیح میں اور حمیدی نے افراد مسلم میں روایت کی یوں ہی ابن اثیر نے جامع الاصول اور شیخ محی الدین نووی نے ۴؎ حدیث مسلم کے آخر میں ہماری روایت کے مطابق اور ترمذی نے یہ اور زیادہ فرمایا کہ خدایا مجھ توبہ والوں سے بنا اور مجھے خوب ستھروں سے کر ۵؎ اور جو حدیث محی السنہ نے صحاح میں روایت کی کہ جس نے وضوء کیا تو اچھا کیا الخ اسے ترمذی نے اپنی جامع میں اسی طرح روایت کیا سوا کلمہ اَشْہَد ُکے اَنَّ مُحمدًا سے پہلے۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع