دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۲؎  نماز کا خشوع یہ ہے کہ اس کا ہر رکن صحیح ادا کرے،دل میں عاجزی اور خوف خدا ہو،نگاہ اپنے ٹھکانے پر رہےکہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پاؤں کی پشت،سجدہ میں ناک کے نتھنےاور قعدہ میں گود میں رہے۔خشوع نماز کی روح ہے،رب فرماتاہے:"ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ"صرف رکوع کا اسی لئے ذکر فرمایا کہ یہ سجدہ کا پیش خیمہ ہے اور بمقابلۂ سجدہ کے اس میں مشقت زیادہ ہے،نیز یہ مسلمانوں کی نمازوں کا خاصہ ہے،یہودونصاریٰ کی نمازوں میں نہ تھا،اس کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے،نیز رکوع مستقل عبادت نہیں،صرف نماز ہی میں عبادت ہےاورسجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت ہے۔جیسے سجدۂ شکر،سجدۂ تلاوت وغیرہ۔

۳؎  یعنی اس سے گناہ کبیرہ معاف نہیں ہوتے صرف صغیرہ معاف ہوتے ہیں،لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کی تفسیر ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کبیرہ والے کے صغیرہ بھی معاف نہیں ہوتے۔(لمعات)

۴؎ یعنی یہ ثواب کسی خاص نماز کا نہیں بلکہ عمر میں ہرنماز کا ہے۔

287 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفسه فيهمَا بِشَيْء إِلَّا غفر لَهُ مَا تقدم من ذَنبه» . وَلَفظه للْبُخَارِيّ

روایت ہے انہی سے کہ آنجناب نے وضو کیا تو ہاتھوں پر تین بار پانی بہایا پھر کلی کی ناک میں پانی لیا ۱؎  پھرتین بارچہرہ دھویا پھرکہنی تک داہنا ہاتھ تین بار پھربایاں ہاتھ تین بار دھویاکہنی تک پھر سر کا مسح کیا ۲؎ پھرداہنا پھر بایاں پاؤں تین تین بار دھوئے پھر فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے وضو کی طرح وضو کیا۳؎  پھر فرمایا جو میری طرح وضوءکرے پھر دو نفل پڑھ لے جن میں اپنے دل سے کچھ باتیں نہ کرے تو اس کے پچھلے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۴؎(مسلم،بخاری)اور لفظ بخاری کے ہیں۔

۱؎   اس طرح کہ پہلے تین کلیاں کرلیں،پھر تین بار ناک میں پانی لےکر صاف کی جیسے کہ اور اعضاء کی ترتیب میں ہے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے۔شافعی لوگ ایک چلو کے آدھے سے کلی اور آدھے سے ناک میں پانی لیتے ہیں یعنی ان کے ہاں فرد فرد کے پیچھے ہے ہمارے ہاں نوع نوع سے پیچھے۔

۲؎  اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ ہاتھ مع کہنی دھونے چاہئیں۔دوسرے یہ کہ سر کا مسح صرف ایک بارہوکیونکہ دھونے میں تین کا ذکر ہے مسح میں نہیں،نیز اگرمسح تین بار کیا جائے تو وہ دھونا ہوجائے گا،یہی امام اعظم کا مذہب ہے۔شوافع کے یہاں مسح بھی تین بار ہوگا،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔

۳؎  چونکہ حضرت عثمان غنی کا وضو ان لوگوں کے سامنے تھا اورحضور کا وضو ان لوگوں سے مخفی اسی لئے آپ نے اس طرح فرمایا۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ عثمان کا وضو حضور کے وضو کی مثل تھا نہ کہ حضور کا وضو آپ کے وضو کی مثل۔

۴؎ یعنی وضو کے بعد دو نفل تحیۃ الوضو پڑھے جب کہ نفل مکروہ نہ ہوں اور اگر نفل مکروہ ہوں جیسے فجر اور مغرب کا وضو،تو وضو کے بعد فرض نماز میں تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کا بھی ثواب مل جائے گا۔(مرقاۃ)لَایُحَدِّث فرماکر یہ بتایا کہ عمدًا اور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن