دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

282 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ " قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاة فذلكم الرِّبَاط»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس سے اﷲ خطائیں مٹا دے درجے بلند کردے ۱؎  لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اﷲ ۲؎ فرمایا وضوءپورا کرنا مشقتوں میں۳؎ مسجد کی طرف زیادہ قدم رکھنا ۴؎ نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۵؎  یہ ہے سرحد کی  حفاظت ۶؎

۱؎   خطاؤں سے مراد گناہ صغیرہ ہیں نہ کبیرہ نہ حقوق العباد۔محو سے مراد ہے بخش دینایانامۂ اعمال سے ایسا مٹا دینا کہ اس کا نشان باقی نہ رہے۔درجوں سے مراد جنت کے درجے ہیں یا دنیا میں ایمان کے درجے۔

۲؎  یہ سوال و جواب اس لیئے ہے کہ تاکہ اگلا فرمان غور سے سنا جائے ورنہ حضور کی تبلیغ ان کی عرض پر موقوف نہیں۔

۳؎  پورےکرنے سے اعضائے وضو کامل دھونا،اورتین بار دھونا،اور وضو کی سنتوں کا پورا کرنا ہے۔مشقت سے مراد سردی،یا بیماری،یا پانی کی گرانی کا زمانہ ہے،یعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو تب مکمل کرنا۔

۴؎  یا اسی لئے کہ گھرمسجد سے دور ہویا قدم قریب قریب ڈالے۔مطلب یہ کہ ہر وقت نمازمسجد میں پڑھنا،نماز کے علاوہ وعظ وغیرہ کے لئے بھی مسجد میں حاضری دینا موجب ثواب ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خواہ مخواہ قریب کی مسجد چھوڑکر دورجاکرنماز پڑھے۔

۵؎ یعنی ایک وقت کی پڑھ کر دوسری نماز کا منتظر رہنا،خواہ مسجد میں بیٹھ کر،یا اس طرح کہ جسم گھر میں،یا دکان میں ہواورکان اذان کی طرف اور دل مسجدمیں لگا ہو۔

۶؎  رباط کے لغوی معنی ہیں گھوڑاپالنا۔اصطلاح میں جہاد کی تیاری یا سرحدِ اسلام پررہ کر کفار کے مقابلے میں ڈٹا رہنا  رُبَاط ہے۔رباط بڑی عبادت ہے،رب فرماتا ہے:"وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا"حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے مقابل مورچے سنبھالنا ظاہری رباطہے اور مذکورہ بالا اعمال باطنی رباط یعنی نفس شیطان کے مقابل حدودایمان کی حفاظت۔

283 -[3] وَفِي حَدِيث مَالك بن أنس: «فَذَلِك الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ» . رَدَّدَ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة التِّرْمِذِيّ ثَلَاثًا

اور مالک ابن انس کی حدیث میں ہے کہ یہ سرحد کی حفاظت،یہ ہے سرحدکی حفاظت دوباراسےمسلم نے روایت کیا ترمذی کی روایت میں تین بارہے۔

 

284 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تخرج من تَحت أَظْفَاره»

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو وضو کرے تو اچھا وضوکرے اس کی خطائیں اس کےجسم سے نکل جاتی ہیں،تاآنکہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎   یہاں اچھے وضوءسے مرادسنتوں اورمستحبات کے ساتھ وضوءکرنا ہے اور خطاؤں سے گناہ صغیرہ کیونکہ گناہ کبیرہ تو بہ کے بغیر اور حقوق العباد صاحب حق کی معافی کے بغیر معاف نہیں ہوتےیعنی جو شخص اچھا وضوء کیا کرے تو اس کے سارے اعضاء کے گناہ اس پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔

لطیفہ:ہم گنہگاروں کے وضوء کا غسالہ ماءمستعمل ہے جس سے دوبارہ وضو نہیں ہوسکتا اور اس کا پینا مکروہ،کیونکہ یہ ہمارے گناہ لے کر نکل جاتا ہے،مگر حضور کے وضوء کا غسالہ بلکہ پاؤں شریف کا دھوون متبرک ہے،کیونکہ وہ اعضاء طیبہ میں سے نور لے کر نکلا ہے،ہمارا غسالہ بہت سی بیماریاں خصوصًا مرگی پیدا کرتا ہے،حضور کا غسالہ بیماریاں دور کرتا ہے،رب فرماتاہے:"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ   

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن