30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاکی کی کتاب ۱ ؎
۱؎ طہارت کے معنی ہیں گندگی اور ناپاکی دور کرنا،گندگی روحانی بھی ہوتی ہے اور جسمانی بھی،لہذا طہارت بھی روحانی اور جسمانی ہے،ان دونوں طہارتوں کی بہت قسمیں ہیں کیونکہ گندگیاں بہت قسم کی ہیں۔طہارت جسمانی دو طرح کی ہے:طہارت حقیقی اور طہارتِ حکمی۔طہارت حقیقی:گندگی ٔحقیقی یعنی خبث کو دور کرنا،اور طہارت حکمی:حکمی گندگی یعنی حدث کو دورکرنا،اس باب میں انہی دو طہارتوں کا ذکر آئے گا۔
|
281 -[1] عَن أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآنِ - أَوْ تَمْلَأُ - مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَآنِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَا فِي «الْجَامِعِ»وَلَكِنْ ذَكَرَهَا الدَّارِمِيُّ بدل «سُبْحَانَ الله وَالْحَمْد لله» |
روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پاکی نصف ایمان ہے ۲؎ اور الحمدﷲ ترازو بھردے گی۳؎ اور سبحان اﷲ اور الحمدﷲ آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیتے ہیں ۴؎ اور نماز روشنی ہے ۵؎ خیرا ت دلیل ہے ۶؎ صبر چمک ہے ۷؎ قرآن تیری یا تجھ پر حجۃ ہے ۸؎ ہر شخص صبح پاتا ہے تو اپنا نفس بیچتا ہے تو یا نفس کو آزاد کرتا ہے یا ہلاک ۹؎ مسلم نے روایت کی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیتے ہیں میں نے یہ روایت نہ مسلم و بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں نہ جامع میں لیکن اسے دارمی نے ذکر کیا اور سبحان اﷲ کی بجائے الحمدﷲ ذکر کیا ۱۰؎ |
۱؎ آپ صحابی ہیں،حضرت ابوموسیٰ اشعری کے چچا ہیں،عہد فاروقی میں وفات پائی۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ طہور سے ظاہری پاکی اورایمان سے عرفی ایمان مرادہے۔چونکہ ایمان بھی گناہوں کو مٹاتا ہے اور وضوءبھی،لیکن ایمان چھوٹے بڑے سارے گناہ مٹا دیتا ہے اور وضوءصرف چھوٹے،اس لیے اسے آدھا ایمان فرمایا۔ایمان باطن کو عیبوں سے پاک فرماتا ہے اور وضو ظاہر کو گندگیوں سے،اور ظاہر باطن کا گویا نصف ہےیا ایمان دل کو برائیوں سے پاک اور خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے اور طھارت جسم کو فقط گندگیوں سے پاک کرتی ہے،لہذا یہ نصف ہے اورممکن ہے کہ ایمان سے مراد نماز ہو،رب فرماتاہے:"لِیُضِیۡعَ اِیۡمٰنَکُمْ"۔ مطلب یہ ہے کہ نماز کی ساری شرطیں شرط طہارت کے برابر ہیں۔غرضکہ حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ایمان بسیط چیز ہے پھر اس کا آدھا اورتہائی کیسا ؟
۳؎ یعنی جو شخص ہر حال میں الحمد ﷲ کہا کرے تو قیامت میں میزانِ عمل کے نیکی کا پلہ اس سے بھر جائے گا اور ایک حمد تمام گناہوں پر بھاری ہوگی۔کیونکہ یہ ہیں ہمارے کام اور وہ ہے رب کا نام۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع