30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے معنے ہیں اے صحابہ!تم سارے مسلمانوں سے افضل ہو کہ کوئی شخص کتنا ہی عمل کرے تمہارےگرد قدم کو نہیں پہنچ سکتا،لہذا تمہارے اعمال سب سے اعلٰی چاہئیں۔
۳؎ یعنی اگرتمہارے عقائد یا اعمال غلط ہوگئے تو تمہیں دیکھ کر ساری امت گمراہ ہوجائے گی لہذا تمہاری غلطی بڑی خطرناک ہے۔
|
275 -[78] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ؟ قَالَ: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّم كل يَوْم أَرْبَعمِائَة مرّة» . قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهَا قَالَ: «الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَكَذَا ابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ فِيهِ: «وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَ» . قَالَ الْمُحَارِبِيُّ: يَعْنِي الجورة |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ غم کے کنوئیں سے اﷲ کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ غم کا کنوآں کیا ہے فرمایا دوزخ میں ایک جنگل ہے جس سے خود دوزخ روزانہ چار سو بار پناہ مانگتی ہے ۱؎ (۴۰۰)عرض کیا گیا یارسول اﷲ اس میں کون جائے گا؟ فرمایا اپنے اعمال میں دکھلاوا کرنے والے قاری۲؎ اسے ترمذی نے روایت کیا یوں ہی ابن ماجہ نے اس میں یہ زیادہ ہے کہ خدا کو بہت ناپسند وہ قاری ہیں جو امیروں کی ملاقاتیں کرتے ہیں محاربی ظالم امیروں کی ۳؎ |
۱؎ یہ حدیث بالکل اپنے ظاہر پرہے چونکہ وہ جنگل بہت گہرا ہے اور وہاں سوائے غم کے اور کچھ نہیں اس لیئے اسےغم کاکنوآں فرمایا گیا۔دوزخ کی چارحدودہیں،ہرحد روزانہ سوبار اس وادی سے پناہ مانگتی ہے یاتو وہاں پر مقررکردہ فرشتہ زبانیہ اس سے پناہ مانگتے ہیں یا خود دوزخ کی آگ،ہر چیز میں شعور ہے جس سے وہ جانتی و پہچانتی ہے۔خیال رہے کہ جیسے دنیا کی آگوں کی گرمی مختلف ہے،گھاس پھوس کی آگ کم گرم،ببول کی آگ بہت تیز،پٹرول سپرٹ کی آگ اور زیادہ تیز،بعض آگ لوہا و فولاد گلا دیتی ہے ایسے ہی دوزخ کی آگ بھی مختلف ہے۔
۲؎ یعنی وہ بے دینی علماء جو اچھے اعمال کے لباس میں لوگوں کے سامنے آئیں اور لوگوں کو گمراہ اور بے دین بنائیں۔
۳؎ تاکہ ان سے دولت لےکر ان کی بدکاریوں کو جائز ثابت کریں اورظلم میں ان کے مددگار ہوں بلکہ چاپلوس عالم بھی خطرناک ہیں جو ہرجگہ پہنچ کر وہاں جیسا بن جائے۔ہمارا اﷲ،نبی،قرآن وکعبہ ایک،دین بھی ایک ہونا چاہئیے۔
|
276 -[79] وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمْ تَعُودُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےعنقریب لوگوں پر وہ وقت آئے گا جب اسلام کا صرف نام ۱؎ اورقرآن کا صرف رواج ہی رہ جائے گا۲؎ ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی۳؎ ان کے علماءآسمان کے نیچے بدترین خلق ہوں گے ان سے فتنہ نکلے گا اور انہیں میں لوٹ جائے گا ۴؎ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع