دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۱؎  یعنی علم دین کی دو نوعیتیں ہیں:ایک وہ جس کا نورعالم کے دل میں اترجائے جس سے قلب روشن اور قالب مطیع ہو جائے یہ علم عالم کو نفع دے گا اور دوسروں کوبھی،ایسے عالم کا وعظ بلکہ اس کی صحبت اکسیر ہے۔اس کی علامت یہ ہے کہ عالم کے دل میں خوف خدا اور محبت جناب مصطفے،آنکھوں میں تری،زبان پر اﷲ کا ذکر رہتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علم بغیر تصوف فسق ہے اورتصوف بغیرعلم بے دینی۔

۲؎ یعنی جب عالم صرف باتیں اچھی کرے مگر اس کا اپنا دل نور سے اور بدن اثرعلم سے خالی ہو یہ علم قیامت میں عالم کے الزام کھا جانے کا ذریعہ ہوگا کہ رب فرمائے گا تو سب کچھ جانتاتھا پھرگمراہ اور بدعمل کیوں بنا؟ صوفیاءفرماتے ہیں کہ جس علم میں تصوف کی چاشنی نہ ہو وہ علم لسانی وارثت شیطانی ہے۔آدم علیہ السلام کا علم قلبی تھا شیطان کا لسانی۔

271 -[74]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِعَاءَيْنِ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ فِيكُمْ وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ يَعْنِي مجْرى الطَّعَام» رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ وسلم  سے علم کے دو برتن محفوظ کیے ایک تو تم میں پھیلا دیا اور دوسرا اگر اسے پھیلاؤں تو یہ کاٹ ڈالا جائے یعنی گلا ۱؎ (بخاری)

۱؎  یعنی مجھے حضور سے دوقسم کے علم ملے،ایک علمِ شریعت جو میں نے تمہیں بتادیا دوسرا علم اسرار و طریقت و حقیقت کہ اگر وہ ظاہرکروں تو عوام نہ سمجھیں اور مجھے بے دین سمجھ کرقتل کردیں،یا ایک علم احکام دوسرے علم اخبار،جس میں ظاہرحاکموں اور بے دین سرداروں کے نام موجود ہیں اگر میں بتاؤں تو ان کی ذریت مجھے ہلاک کردے۔حضرت ابوہریرہ کبھی کنایۃً اشارۃً کچھ کہہ دیتے تھے۔چنانچہ دعامانگاکرتےتھے کہ خدایامجھے   ۶۰ھ؁  کے فتنوں اور لونڈوں کی حکومت سے  پناہ دے۔چنانچہ  ۶۰ھ ؁میں امیرمعاویہ کی وفات ہوئی یزیدپلیدتخت نشین ہوا۔اس دعا میں ان دو واقعات کی طرف اشارہ تھا،آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور امیرمعاویہ رضی اﷲ عنہ کی وفات سے ایک سال قبل انتقال فرمایا۔اس حدیث سے چند مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ شرعی مسئلے بے دھڑک بیان کیئے جائیں مگرتصوف کے اسرار نااہل کو نہ بتائے جائیں۔دوسرے یہ کہ غیرضروری چیزیں جن کے اظہار سے فتنہ پھیلتا ہو ہرگز ظاہر نہ کی جائیں۔تیسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے حبیب کو علوم غیبیہ عطا فرمائے،حضور کے ذریعہ صحابہ کرام کوبھی،جب حضرت ابوہریرہ کے علم کا یہ حال ہے کہ حضرت خلفائے راشدین کے علوم تو ہماری سمجھ سے بالا ہیں۔

272 -[75] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أعلم فَإِن من الْعلم أَن يَقُول لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ (قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنا من المتكلفين)

روایت ہے حضرت عبداﷲ سے فرمایا اے لوگو!جو کوئی کچھ جانتا ہوتو بیان کردے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے اﷲ جانے ۱؎ کیونکہ علم یہ ہی ہے جسے تم نہ جانو تو کہہ دو اﷲ جانے۲؎  اﷲ تعالٰی نے اپنے نبی سے فرمایا کہ فرمادو میں نبوت پر تم سے اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یہ حدیث موقوف ہے یعنی حضرت عبداﷲ ابن مسعود کا اپنا فرمان۔مقصد یہ ہے کہ کوئی عالم اپنی بے علمی ظاہرکرنے میں شرم نہ کرے،اگر کوئی مسئلہ معلوم نہ ہوتو گھڑکر نہ بتائے ہماری بے علمی علم سے زیادہ ہے رب فرماتا ہے:"وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن