30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی گناہ اور اس کے اسباب کیا ہیں اور اس سے بچنے کا ذریعہ کیا۔خیال رہے کہ نیکیاں کرنے کے لیئے جاننا چاہئیں اور گناہ بچنے کے لیئے،علماء فرماتے ہیں کہ کفریات سیکھنا فرض ہے تاکہ ان سے بچے۔
۳؎ یعنی صرف برائیاں ہی نہ پوچھا کرو بھلائیاں بھی پوچھا کرو۔
۴؎ کیونکہ عالم کے بگڑنے سے عالَم بگڑ جاتا ہے اور عالم کے سنبھلنے سے عالَم سنبھل جاتاہے۔عالم مسلمانوں کے جہاز کا کپتان ہے،تر یگا سب کو لے کر اور ڈوبے گا تو سب کو لے کر،آج جتنے فرقے مسلمانوں میں بنے سب علماءسوء کی مہربانی سے اور اس کےباوجود اسلام اصلی رنگ میں موجود ہے علمائےخیرکی برکت سے۔
|
268 -[71] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَالِمٌ لَا ينْتَفع بِعِلْمِهِ ". رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں قیامت کے دن اﷲ کے نزدیک بدتردرجہ والا وہ عالم ہے جس کے علم سے نفع حاصل نہ کیا جائے ۱؎ (دارمی) |
۱؎ یعنی لوگ اس کے علم سے فائدہ نہ اٹھائیں نہ مسائل بیان کرے نہ کوئی دینی کتاب لکھےیا یہ مطلب ہے کہ خود نفع حاصل نہ کرے،یعنی عالم بے عمل،علم درخت ہے عمل اس کا پھل،بڑا بدنصیب وہ شخص ہے جو اپنے درخت کا پھل خود نہ کھائے،جاہل بےعمل کو ایک عذاب ہے اور عالم بےعمل کو سات گناہ عذاب جیسا کہ روایت میں ہے۔
|
269 -[72] وَعَن زِيَاد بن حدير قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ المضلين ". رَوَاهُ الدِّرَامِي |
روایت ہے حضرت زیاد ابن حدیرسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا جانتے ہو کہ اسلام کو کیا چیز ڈھاتی ہے۲؎ میں نے کہا نہیں فرمایا اسلام کو عالِم کی لغزش منافق کا قرآن میں جھگڑنا اور گمراہ کن سرداروں کی حکومت تباہ کرے گی ۳؎(دارمی) |
۱؎ آپ کی کنیت ابومغیرہ ہے،قبیلہ بنی اسد سے ہیں،کوفہ کے رہنے والے ہیں،تابعی ہیں،حضرت عمر وعلی سے احادیث لیں۔
۲؎ یعنی اسلام کی عزت لوگوں کے دل سے دورکرتی ہے۔
۳؎ یعنی جب علماء آرام طلبی کی بنا پرکوتاہیاں شروع کردیں،مسائل کی تحقیق میں کوشش نہ کریں،اور غلط مسئلے بیان کریں،بے دین علماءکی شکل میں نمودار ہوجائیں،بدعتوں کو سنتیں قرار دیں،قرآن کریم کو اپنی رائے کے مطابق بنائیں،اور گمراہ لوگوں کے حاکم بنیں اور لوگوں کواپنی اطاعت پر مجبور کریں تب اسلام کی ہیبت دلوں سے نکل جائے گی جیسا آج ہورہا ہے۔بعض نے فرمایا کہ عالم کی لغزش سے مراد ان کا فسق و فجورمیں مبتلا ہوجانا ہے عالم کا عمل بھی تبلیغ ہونا چاہیئے۔
|
270 -[73] وَعَن الْحسن قَالَ: «الْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَاكَ الْعلم النافع وَعلم على اللِّسَان فَذَاك حُجَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى ابْنِ آدَمَ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت حسن سے فرماتےہیں علم دو طرح کے ہیں ایک علم دل میں یہ علم فائدہ مند ہے ۱؎ دوسرا علم صرف زبان پر یہ انسان پر اﷲ کی حجت ہے۲؎ (دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع