30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب اپنے لیئے ہیں،حضور امت کے لیئے یہ ان سے لے کر سیر نہیں ہوتے حضور دے کر سیر نہیں ہوتے،رب فرماتا ہے:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ" لفظ ایک ہے معنے علیحدہ۔
۲؎ امام نووی نے اپنی چہل حدیث میں فرمایا کہ ابوالدرداء کی حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے جو ساری ضعیف ہیں مگر اسنادوں کی کثرت اور علماء کے قبول کرلینے کی وجہ سے حدیث قوی ہوگی،کیونکہ تعدد اسناد سے ضعیف حسن بن جاتی ہے۔نیز فضائل اعمال میں حدیث ضعیف مقبول ہے۔(ازمرقاۃ و اشعۃ اللمعات)
|
261 -[64] عَن عَوْنٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ صَاحِبُ الْعِلْمِ وَصَاحِبُ الدُّنْيَا وَلَا يَسْتَوِيَانِ أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ فَيَزْدَادُ رِضًى لِلرَّحْمَنِ وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ. ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ (كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى)قَالَ وَقَالَ الْآخَرُ (إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عباده الْعلمَاء. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت عون سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا حضرت عبداﷲ ابن مسعود نے کہ دو حریص سیر نہیں ہوتے علم والا اور دنیا والا مگر دونوں برابر نہیں ۲؎ علم والا تو اﷲ کی رضا مندی بڑھا لیتا ہے اور دنیا والا سرکشی میں بڑھ جاتا ہے ۳؎ پھرحضرت عبداﷲ نے یہ آیت تلاوت فرمائی خبردار ہو یقینًا انسان سرکشی کرتا ہے اس لیے کہ اپنے کو بے پرواہ جانتا ہے فرماتے ہیں اور دوسرے کے بارے میں فرمایا کہ اﷲ کے بندوں میں اﷲ سے علماء ہی ڈرتے ہیں ۴؎ (دارمی) |
۱؎ آپ تابعی ہیں آپ نے حضرت ابن عباس،ابن مسعود،ابوہریرہ سے روایتیں لیں اور آپ سے امام زہری اور امام ابوحنیفہ نے روایتیں لیں۔
۲؎ مَنْھُوْمٌ نَہُمٌسے ہے بمعنی کھانے کی زیادہ رغبت،یعنی طالب علم اور طالب دنیا حریص دونوں ہیں مگر انجام میں فرق ہے۔
۳؎ صوفیاءکی اصطلاح میں دنیا وہ ہے جو رب سے غافل کرے۔منافقوں کی نماز دنیا تھی اور عثمان غنی کا مال عین دین،وہی یہاں مراد ہے۔لہذا حضرت سلیمان،عثمان غنی اور امام ابوحنیفہ جیسے مالداروں کو دنیادار نہیں کہاجاسکتا،ان کا مال رضائے رحمان کا ذریعہ ہے۔
۴؎ یعنی یہ میں محض اپنے رائے سے نہیں کہتا بلکہ رب تعالٰی نے دنیا دار کے ما ل کو زیادتی طغیان اور عالم کے علم کو زیادتی رحمت کا سبب بتایا۔
|
262 -[65] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ ويقرءون الْقُرْآن يَقُولُونَ نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي - الْخَطَايَا ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت کے کچھ لوگ علم دین سیکھیں گے اور قرآن پڑھیں گے کہیں گے کہ ہم امیروں کے پاس جائیں ان کی دنیا لے آئیں اپنا دین بچالائیں ۱؎ لیکن ایسا نہ ہو سکے گا جیسے ببول کے درخت سے کانٹے ہی چنے جاتے ہیں ایسے ہی امیروں کے قرب سے(محمد ابن صباح نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ)خطائیں ہی چنی جائیں گی ۲؎(ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع