30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ قبیلہ بنی لیث سے ہیں،غزوۂ تبوک کے موقعہ پر اسلام لائے،تین سال حضور کی خدمت کی،اہل صفہ سے تھے،حضور کے بعد اولًا بصرے میں پھر شام کی بستی بلاط میں رہے جو دمشق سے تین کوس دور ہے۔سو سال کی عمر میں بیت المقدس میں وفات پائی،وہیں دفن ہوئے۔رضی اللہ عنہ۔
۲؎ ایک علم طلب کرنے کا،دوسرا پالینے کا کیونکہ یہ دونوں عبادتیں ہیں۔
۳؎ یا تو زمانۂ طالب علمی میں مرجائے تکمیل کا موقعہ نہ ملے یا اس کا ذہن کام نہ کرے مگر وہ لگا رہے تب بھی ثواب پائے گا۔جیسے مجتہداگر صحیح اجتہاد کرے تو دوہرا ثواب اور اگر غلطی کرے تو ایک اجر ہے۔
|
254 -[57] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ عِلْمًا علمه ونشره وَولدا صَالحا تَركه ومصحفا وَرَّثَهُ أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ أَوْ صَدَقَةً أخرجهَا من مَاله فِي صِحَّته وحياته يلْحقهُ من بعد مَوته» . رَوَاهُ بن مَاجَه وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اعمال و نیکیاں مؤمن کو بعدموت بھی پہنچتی رہتی ہیں ان میں سے وہ علم ہے جسے سیکھا گیا اور پھیلایا گیا ۱؎ اور نیک اولاد جو چھوڑ گیا ۲؎ یا قرآن شریف جس کا وارث بنا گیا۳؎ یا مسجد یا مسافر خانہ جو بنا گیا ۴؎ یا نہر جو جاری کرگیا یا خیرات جسے اپنے مال سے اپنی تندرستی و زندگی میں نکال گیا۵؎ کہ یہ چیزیں اسے مرے بعد بھی پہنچتی رہتی ہیں۶؎ (ابن ماجہ،بیہقی فی شعب الایمان) |
۱؎ زبان سے یا قلم سے کہ اپنے کامل شاگرد اور بہترین تصنیفات چھوڑیں،جب تک مسلمان ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے،اسے ثواب پہنچتا رہے گا۔
۲؎ خواہ اولاد کو نیک بنا کر گیا یا اس کے مرنے کے بعد اولاد نیک ہوگئی دونوں صورتوں میں اسے ثواب ملتا رہے گا۔
۳؎ اس طرح کہ اپنے ہاتھ سے قرآن لکھ کر یا خریدکر چھوڑ گیا اسی حکم میں تمام دینی کتب ہیں۔
۴؎ کوشش سےیا اپنے پیسہیا اپنے ہاتھ سے،اسی حکم میں مدرسے اور خانقاہیں بھی ہیں۔
۵؎ تندرستی کی اس لیئے قید لگائی کہ مرض الموت میں خیرات کرنے کا آدھا ثواب ہےکیونکہ اس وقت خود اپنے کو مال کی حاجت نہیں رہتی اس میں تمام صدقہ جاریہ آگئے جیسے کنویں کھدوانا،نلکے لگوانا،ہسپتال بنا جانا وغیرہ۔
۶؎ بعض تا قیامت بعض اس سے کم،جس قدر صدقہ کا بقا اسی قدر اس کا اجر۔
|
255 -[58] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَنَّهُ مَنْ سَلَكَ مَسْلَكًا فِي طَلَبِ الْعِلْمِ سَهَّلْتُ لَهُ طَرِيقَ الْجَنَّةِ وَمَنْ سَلَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ أَثَبْتُهُ عَلَيْهِمَا الْجَنَّةَ. وَفَضْلٌ فِي عِلْمٍ خَيْرٌ مِنْ فَضْلٍ فِي عِبَادَةٍ وَمِلَاكُ الدِّينِ الْوَرَعُ».رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ فرماتی ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ عزوجل نے مجھے وحی فرمائی ۱؎ کہ جو تلاش علم میں ایک راہ چلا تو میں اس پر جنت کا ایک راہ آسان کردوں گا۲؎ اور جس کی دو پیاری چیزیں میں لے لوں تو اس کو جنت دوں گا۳؎ اور علم کی زیادتی عبادت کی زیادتی سے بہتر ہے۴؎ کارخانہ دین کا نظام پرہیزگاری ہے ۵؎ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع