دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

242 -[45]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَفْتَى بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خانه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو بے علم فتویٰ دے اس کا گناہ فتویٰ لینے والے پر ہے ۱؎ اور جو اپنے بھائی کو کسی چیز کا مشورہ یہ جانتے ہوئے دے کہ درستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کی خیانت کی ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎  اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو شخص علماء کو چھوڑ کر جاہلوں سے مسئلہ پوچھے اور وہ غلط مسئلہ بتائیں تو پوچھنے والابھی گنہگار ہوگا کہ یہ عالم کو چھوڑ کر اس کے پاس کیوں گیا نہ یہ پوچھتا نہ وہ غلط بتاتا اس صورت میں اَفتٰی بمعنی اِستَفتٰی ہے۔دوسرے یہ کہ جس شخص کو غلط فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتوےٰ دینے والے پر ہے اس صورت میں پہلا اُفتِی مجہول ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ بے علم کو مسئلہ شرعی بیان کرنا سخت جرم ہے۔

۲؎  یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے اور وہ دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ مشیر پکا خائن ہے خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی،راز،عزت،مشورے تمام میں ہوتی ہے۔

243 -[46]

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْأُغْلُوطَاتِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معمّوں سے منع فرمایا ۱؎(ابوداؤد)

۱؎   یعنی عوام پرفقہی معمّے پیش کرنا اور انہیں حل نہ کرنا یا علماء کا ایک دوسرے کو ذلیل کرنے اور اپنی فوقیت ظاہر کرنے کے لئے شرعی معمے پوچھنا ناجائز ہے کہ یہ مؤمن کی ایذاء کا سبب ہے۔طالب علموں سے ان کا ذہن تیز کرنے کے لیئے استاد کا فقہی معمے پوچھنا بالکل جائز ہے۔جیسے یہ پوچھنا کہ وہ کون سا سفر ہے جس میں قصر نہیں،یا وہ کون سی صورت ہے کہ نمازی اپنے گھر میں وقتی نماز قصر پڑھے،یا وہ کون سی صورت ہے کہ نماز پڑھی جائے تو نہ ہو بعد میں خود بخود ہوجائے،یا وہ کون بزرگ ہیں جن کی اپنی عمر چالیس سال،بیٹے کی ایک سو بیس سال،اور پوتے کی نوے سال اور تینوں بیک وقت زندہ ہیں،اس قسم کے بہت سے معمے علامہ شامی وغیرہ نے ارشاد فرمائے،اس سے ذہن تیز کرنا مقصود ہے نہ کہ کسی کو ذلیل کرنا۔

244 -[47]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْآنَ وَعَلِّمُوا النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم میراث اور قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کہ میری وفات ہونے والی ہے۔۱؎(ترمذی)

۱؎  یعنی میں تم میں ہمیشہ رہوں گانہیں،میری وفات سے پہلے قرآن حکیم کے سارے احکام خصوصًا علم میراث مجھ سے سیکھ لو اور تمہارے بعد والے تم سے،چونکہ علم میراث سے عدل و انصاف قائم ہے تمام علوم کا تعلق زندگی سے ہے اور اس کا تعلق موت سے،نیز قرب قیامت یہ علم دنیا سے اٹھ جائے گا،اسی لئے خصوصیت سے اس کے سیکھنے کی تاکیدفرمائی۔

245 -[48]

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا أَوَانٌ يُخْتَلَسُ فِيهِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ على شَيْء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ سرکار نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پھر فرمایا کہ یہ وہ وقت ہے جب علم لوگوں سے اٹھالیا جائے گا حتی کہ کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے ۱؎(ترمذی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن