دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

راحت کی وجہ سے دس منٹ کا محسوس ہوگا جیسے ایک ہی رات بیمار کو لمبی تندرست کو چھوٹی اور جو محبوب کے پاس گزارے اسے منٹوں کی محسوس ہوتی ہے۔

238 -[41]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ وَلِكُلِّ حَدٍّ مَطْلَعٌ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن سات طریقوں پر اترا  ۱؎  ان میں سے ہر آیت کا ظاہر بھی ہے باطن بھی۲؎ اور ہر ظاہر و باطن کی ایک حد ہے جہاں سے اطلاع ہے۳؎ (شر ح سنّہ)

۱؎  طریقوں سے مراد یا تو عربی لغتیں ہیں،چونکہ عرب میں سات قبیلے فصاحت و بلاغت میں مشہور تھے،قریش،ثقیف،طے،ہوازن، مذیل،یمنی،تمیم اور ان کی زبانوں کا آپس میں کچھ اختلاف تھاجیسے دہلی اور لکھنؤ والوں کی اردو میں قدرے فرق ہے۔نزول قرآن قریش کی زبان میں ہوا جو دوسرے قبیلوں پر بھاری تھی۔اسی لئے ان کو اجازت دی گئی کہ اپنی اپنی زبانوں میں تلاوت کریں۔زمانۂ نبوی میں عام تلاوت قریشی زبان میں ہوتی تھی۔مگر بعض لوگ دوسری قرأتوں میں بھی تلاوت کرتے تھے۔حضور کے پردہ فرمانے کے بعد یہ اختلاف فساد کا باعث بننے لگا،عہد عثمانی میں جب قرآن پاک کو کتابی شکل میں جمع کیا گیا تو لغت قریش کو ملحوظ رکھا گیا جس میں قرآن کا نزول ہوا تھا باقی قراتیں ختم کردی گئیں تاکہ مسلمانوں میں یہود و نصاریٰ کا سا اختلاف نہ ہو اس میں قرآن کی تبدیلی نہ تھی بلکہ فتنہ کا دفع کرناتھاجیسے"فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ"میں لفظ اف لغت قریش میں الف کے پیش ف کے شد اور زیروتنوین سے ہے دیگر لغتوں میں الف کے زبر یا زیر ف کا زبر یا زیر بغیرتنوین شد اور بغیر شد کے ہے معنی ایک ہیں لفظوں میں اتنا اختلاف یا اس سے مراد سات قرأتیں ہیں"یا مَالِكِ مَلِكِ مَلِیْكِ یَوْمِ الدِّیْنِ"وغیرہ،یا مطلب یہ ہے کہ سات معانی پر اترا امر،نہی،مثالیں،قصے،وعدے، وعیدیں اور نصیحتیں یا سات چیزیں لےکر اترا،عقائد،احکام،اخلاق،حرام،حلال،محکم،متشابہ اور بھی اس کی بہت تفسیریں کی گئیں ہیں۔

۲؎ یعنی قرآن کی ہر آیت کی ظاہر مراد بھی ہے اور باطنی بھی،ظاہری مراد اس کا لفظی ترجمہ ہے باطنی مراد اس کا منشاء اور مقصد،یا ظاہر شریعت ہے اورباطن طریقت،یا ظاہر احکام ہیں اور باطن اسرار،یا ظاہر وہ ہے جس پر سب علماء مطلع ہیں اور باطن وہ ہے جس سے صوفیائے کرام خبردار ہیں،یا ظاہر وہ جو نقل سے معلوم ہو باطن وہ جو کشف سے معلوم ہو جیسے"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قٰتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الْکُفَّارِ" اس کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ اپنے قریبی کافروں پر لوہے کی تلوار وغیرہ سے جہاد کرو باطن یہ ہے کہ قریبی کافر اپنے نفس امارہ پر مجاہدے کی تلوار اوراعانت یار سے جہادکرو۔

۳؎  حدمطلع وہ پہاڑ کی چوٹی یا اونچا ٹیلہ ہے۔جہاں سے دور تک چیزیں دیکھی جاسکیں یعنی قرآن کے ظاہر و باطن معلوم کرنے کے علیحدہ مقامات ہیں۔چنانچہ اس کا ظاہر علماء سے اور باطن مشائخ سے معلوم ہوتا ہے یا ظاہر قال سے،باطن حال سے،یا ظاہرنحو سے باطن فنا  اور محو سے،یا ظاہر کتابوں سے باطن کسی کی نظر سے۔شعر

دین مجو اندرکتب  اے بے خبر                                  علم و حکمت ازکتب دین از نظر

صد کتاب و صد ورق ورنارکن                                 رُوئے  دل  را جانب  دلدار کن

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن