30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معنی ہیں پیچھے والے یعنی متاخرین۔یہاں سلف سے مراد صحابہ ہیں،خلف سے مراد تابعین،چونکہ صحابہ کا درجہ غیرصحابہ سےکہیں زیادہ ہے اس لیئے ان کا نام پہلےلیا تابعین کا بعدمیں۔
۴؎ اگرکسی باب میں کوئی حدیث مصابیح میں تو تھی مگرمشکوٰۃ میں نہیں تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ مصابیح میں وہ حدیث دو جگہ آئی تھی،میں نے ایک جگہ رکھی دوسری جگہ سے ساقط کردی۔
۵؎ یعنی اگر کوئی حدیث مصابیح میں تو مختصرًا مذکور تھی،مگرمشکوٰۃ میں پوری دراز یا اس کے برعکس مصابیح میں مکمل و دراز تھی،مگر میں نے اس کو مختصرکرکےنقل کیاتو اس کی کوئی حکمت اور وجہ ہوگی،میں نے بلاوجہ یہ فرق نہ کیا مثلًا ایک دراز حدیث کا ایک جز باب کے مناسب ہے باقی نہیں تو میں صرف وہ مناسب جز ہی نقل کروں گا مختصرًا اور اگر کسی حدیث کے دو جز مصابیح کے دوبابوں میں منقول ہوئے تو میں پوری حدیث ایک باب میں طویل ذکر کروں گا۔
۶؎ یعنی صاحب مصابیح کا طریقہ تو یہ ہے کہ فصل اول میں شیخین کی احادیث لاتے ہیں اور فصل دوم میں ان کے علاوہ کی،لیکن اگر مشکوٰۃ میں تم کو اس کے خلاف ملے کہ پہلی فصل میں غیر شیخین کی کوئی روایت آگئی ہو یا دوسری فصل میں شیخین کی تو اس کی وجہ وہ ہے جو آگے مذکورہے۔
وَ «جَامِعَ الْأُصُولِ»؛اعْتَمَدْتُ عَلَى صَحِيحَيِ الشَّيْخَيْنِ وَمَتْنَيْهِمَا. وَإِنْ رَأَيْتَ اخْتِلَافًا فِي نَفْسِ الْحَدِيثِ؛فَذَلِكَ مِنْ تَشَعُّبِ طُرُقِ الْأَحَادِيثِ،وَلَعَلِّي مَا أطلعت على تِلْكَ الرِّوَايَة التس سَلَكَهَا الشَّيْخُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. وَقَلِيلًا مَا تَجِدُ أَقُولُ: مَا وَجَدْتُ
ترجمہ:
احادیث کی جامع ہیں،کے تلاش کے بعدصحیح مسلم وبخاری اوران کے متون ۱؎ پراعتماد کیا اور اگرتم اصل حدیث میں فرق پاؤ تویہ فرق حدیثوں کی اسنادوں کے فرق کی وجہ سے ہوگا۲؎ اور شایدمیں اس روایت پرخبردار نہ ہوا ہوں جدھر حضرت شیخ گئے۔تم بہت کم یہ بھی پاؤ گے کہ میَں کہوں گا۔
تشریح:
۱؎ یعنی اس اختلاف کی وجہ یہ ہوگی کہ میں نے مشکوٰۃ کی تالیف کے دوران میں امام حمیدی کی کتاب "جمع بین الصحیحین" اور امام مجددالدین کی کتاب "جامع الاصول" بھی دیکھیں اور اصل کتاب یعنی بخاری و مسلم کا بھی مطالعہ کیا اگر ان دونوں جامع کتب اوراصل بخاری ومسلم میں اختلاف پایا تو میں نے ان جامع کتب کا اعتبار نہ کیا بلکہ مسلم و بخای کا اعتبار کیا۔مثلًا ایک حدیث جامع الاصول میں شیخین کی روایت سے منقول ہے اور صاحب مصابیح نے فصل اول میں بیان کی مگرمسلم و بخاری میں وہ روایت نہیں تو اگر میں وہ حدیث لاؤنگا تو فصل اول ہی میں مگر اس کی نسبت مسلم و بخاری کی طرف نہ کرونگا،ایسے ہی برعکس کہ اگر ان جامع کتب میں کسی حدیث کی نسبت مسلم و بخاری کے علاوہ کسی اور کتاب کی طرف ہے،مگر وہ حدیث مسلم وبخاری میں مجھے مل گئی،صاحب مصابیح اسے دوسری فصل میں لائے تو میں بھی لاؤنگا دوسری فصل میں ہی،مگرنسبت مسلم وبخاری کی طرف کروں گا۔خیال رہے کہ کتاب جمع بین الصحیحین کے مصنف حافظ ابوعبداﷲ محمدابن ابی النصر ابن حمیداندلسی قرطبی ہیں جو دارقطنی کے شاگردوں سے ہیں،آپ بغداد میں رہے وہاں ہی ۴۸۰ھ میں وفات پائی،آپ نے اپنی اس کتاب میں مسلم وبخاری کی احادیث جمع فرمائیں اور جامع الاصول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع