30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
230 -[33] وَعَن ابْن مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ 231 -[34] وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن أبي الدَّرْدَاء |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ اسے ہرا بھرا رکھے جو ہم سے کچھ سنے ۱؎ پھر جیسا سنے ویسا ہی پہنچادے۲؎ کیونکہ بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والے سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں اسے ترمذی ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور دارمی نے ابودرداء سے۔ |
۱؎ یعنی مجھ سے یا میرے صحابہ سے میرا یا ان کا کوئی قول یا عمل سنے۔لہذا حدیث چار قسم کی ہوئی حضور کا قول اور فعل،صحابہ کا قول اور فعل۔اسی لیئے مِنَّا جمع اور شَیئًا نکرہ ارشاد ہوا۔
۲؎ اس طرح کہ مضمون نہ بدلے یا حدیث کے الفاظ میں فرق نہ پیدا ہو۔خیال رہے کہ ابن عمر،مالک ابن انس،ابن سیرین وغیرہم کے نزدیک حدیث کی روایت بالمعنٰے حرام ہے،کیونکہ بسا اوقات لفظ کے بدلنے سے معنی بدل جاتے ہیں اور راوی کو خبر نہیں ہوتی اور امام حسن،شعبی،نخعی و مجاہد وغیرہم کے نزدیک روایت بالمعنی جائز کہ راوی حدیث کے الفاظ اس طرح بدل دے کہ معنی نہ بدلیں۔پہلے قول میں احتیاط ہے دوسرے میں گنجائش،بہتر یہی ہے کہ الفاظ بھی نہ بدلیں۔دیکھئے حضرت وائل ابن حجر نے نماز کی آمین کے بارے میں فرمایا"مَدَّبِھَا صَوتَہٗ"بعض راویوں نے اسے"رَفَعَ بِھَا صَوتَہٗ"سے روایت کیا۔وہ سمجھے کہ دونوں کے معنٰے ایک ہی ہیں مگر بعد والوں کو دھوکہ لگا کہ شاید اس کے معنی ہیں بلند آواز سے آمین کہی،حالانکہ اس کا ترجمہ تھا کہ آمین کھینچ کر الف کے مد کے ساتھ کہی،روایت بالمعنٰی میں یہ خطرے ہیں اس لیئے فرمایا کہ جیسی سنے ویسی پہنچائے۔
|
232 -[35] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری حدیث روایت کرنے سے بچو سوا ان کے جن کو تم جانتے ہو ۱؎ کیونکہ جوعمدًا مجھ پرجھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ آگ کا بنالے۲؎ اسے ترمذی نے روایت کیا۔ |
۱؎ یقین سے یا گمان غالب سے کہ وہ میری حدیث ہے،لہذا حدیث متواتر اورمشہور بے دھڑک روایت کرو اور حدیث ضعیف کا ضعف بیان کرکے اور حدیث موضوع کو ہاتھ مت لگاؤ۔ہاں لوگوں کو بچانے کے لیئے یہ بتاسکتے ہو کہ یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے اسی بنا پر بعض محدثین نے حتی الامکان حدیث ضعیف کی روایت ہی نہ کی،جیسے امام بخاری و مسلم اور بعض نے روایت تو کی مگر بیان ضعف لازم کرلیا،جیسے امام ترمذی۔غرضکہ حدیث میں بڑی احتیاط چاہیئے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ تحریر پر اعتماد کرکے روایت حدیث جائز ہے۔
۲؎ اگرچہ ہر ایک پر جھوٹ باندھنا بہتان اور گناہ ہے،مگر حضور انورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا بہت گناہ ہے کہ اس سے دین بگڑتا ہے۔مُتَعَمِّدًا کی قید سے معلوم ہوا کہ خطا پر پکڑ نہیں،اگر کسی حدیث کے موضوع ہونے کی خبر نہ ہوئی اور روایت کردی تو مجرم نہیں۔
|
233 -[36] وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَلَمْ يَذْكُرِ: «اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا علمْتُم» |
اور ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود اور جابر سے نقل فرمایا اور "اتقوا الحدیث"الخ کا ذکر نہ کیا۔ |
|
234 -[37] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَليَتَبَوَّأ مَقْعَده من النَّار» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جو قرآن میں بغیر علم کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۲؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع