30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی جو دینی علم دین کے لئے نہ سیکھے بلکہ عزت یا مال حاصل کرنے یا دین میں فساد پھیلانے کے لئے سیکھے تو اول درجہ کا جہنمی ہے۔ اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو قرآن کا ترجمہ دیکھ کر اور چار حدیثیں پڑھ کر آئمہ مجتہدین اور علماء دین کے منہ آنے کی کوشش کرتے ہیں،اﷲ تعالٰی نیت خیرعطا فرمائے۔خیال رہے کہ علماء کا مناظرہ اور ہے مقابلہ کچھ اور،مناظرہ میں تحقیق حق مقصود ہوتی ہے،مقابلہ میں اپنی بڑائی کا اظہار،بوقت ضرورت مناظرہ اچھا ہے مقابلہ برا،یہاں مقابلہ کی برائی مذکور ہے۔مناظرے آئمہ مجہتدین بلکہ صحابہ کرام میں بھی ہوئے۔
|
227 -[30] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».يَعْنِي رِيحَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کوئی وہ علم سیکھے جس سے اﷲ کی رضا ڈھونڈی جاتی ہے صرف اس لیے کہ اس سے دنیاوی سامان حاصل کرے ۱؎ وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہ پائے گا۲؎ (احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ یہ حدیث گزشتہ احادیث کی شرح ہےجس میں فرمایا گیا کہ علم دین رضائے الٰہی کے لیئے حاصل کرو اسے صرف دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔دنیا کے سامان سے روپیہ پیسہ بھی مراد ہے اور دنیوی عز ت و جاہ بھی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ علم دین کے ذریعے دنیا حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ دنیا اصل مقصود ہو اور علم دین محض اس کا وسیلہ یہ سخت برا ہے وہی یہاں مراد ہے۔ دوسرے یہ کہ علم دین سے دین ہی مقصود ہو مگر تبعًا دنیا بھی حاصل کی جائے تاکہ فراغت سے خدمت دین ہوسکے یہ ممنوع نہیں،کیونکہ اب دین مقصود ہے اور دنیا اس کا وسیلہ۔فقیر عالم کا وعظ دلوں میں موثر نہیں ہوتا۔حضرات خلفائے راشدین نے خلافت پر تنخواہیں لیں۔جہاد کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر فقط غنیمت کے لئے کرتا ہے تو برا اور اگر تبلیغ دین کے لئے ہے اور غنیمت و ملک اس کا وسیلہ ہے تو اچھا ہے۔
۲؎ یعنی اولًا اگرچہ ریا کاری کی سزا بھگت کریا حضور کی شفاعت کے ذریعہ معافی ہوجائے گی۔
|
228 -[31] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَالنَّصِيحَةُ لِلْمُسْلِمِينَ وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ ورائهم» . رَوَاهُ الشَّافِعِي وَالْبَيْهَقِيّ فِي الْمدْخل |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ اس بندے کو ہرا بھرا رکھے جو میرا کلام سنے اسے یاد رکھے خیال رکھے اور پہنچادے ۱؎ کیونکہ بہت سے فقہ اٹھانے والے خود غیر فقیہ ہیں اور بہت لوگ اپنے سے بڑے فقیہ تک فقہ اٹھاتے ہیں۲؎ مسلمانوں کا دل تین چیزوں پر خیانت نہیں کرتا۳؎ اﷲ کے لیے عمل خالص کرنا۴؎ مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی جماعت کو لازم پکڑنا ۵؎ کیونکہ ان کی دعا ماسوا کو شامل ہے ۶؎ اسے شافعی اور بیہقی نے مدخل میں روایت کیا |
۱؎ یہ حدیث تاقیامت محدثین کو شامل ہے،یعنی اﷲ تعالٰی حافظ اورمبلغ حدیث کو دنیا میں پھلا پھولا رکھے اور آخرت میں اس کا چہرہ ترو تازہ رکھے اور اس زمرے میں داخل کرے"وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ "حضور کی یہ دعا قبول ہے خدام حدیث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع