30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی قابیل جس نے اپنے بھائی ہابیل کو اپنی بہن عقلمیہ کے عشق میں ظلمًا قتل کیا۔خیال رہے کہ غیر مستحق قتل کو قتل کرنا ظلمًا قتل ہے۔قاتل،مرتد،زانی،مفسد وغیرہم جو شرعًا واجب القتل ہیں انہیں حاکم کاقتل کرنا ثواب ہے۔
۲؎ یعنی یہ حدیث مصابیح میں اسی جگہ تھی مگر ہم نے مناسبت کے لحاظ سے اس باب میں بیان کی۔
|
212 -[15] عَن كثير بن قيس قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِد دمشق فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ الْعَالِمَ يسْتَغْفر لَهُ من فِي السَّمَوَات وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَسَمَّاهُ التِّرْمِذِيُّ قَيْسَ بن كثير |
روایت ہے کثیر ابن قیس سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو درداء کے ساتھ دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا ۱؎ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بولا کہ اے ابودردا ءمیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ سے آپ کے پاس صرف ایک حدیث کے لیئے آیا ہوں مجھے خبر لگی ہے کہ آپ حضور سے وہ روایت فرماتے ہیں ۲؎ اس کے سواءاور کسی کام کے لیئے نہ آیا ۳؎ آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو تلاش علم کرتے ہوئے کوئی راہ طے کرے تو اﷲ اسے بہشت کے راہوں سے کوئی راہ چلائے گا۴؎ اور بے شک فرشتے طالب علم کی رضا کے لیئے پر بچھاتے ہیں۵؎ یقینًا عالم کے لیئے آسمانوں اور زمین کی چیزیں اور پانی میں مچھلیاں دعائے مغفرت کرتی ہیں۶؎ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں شب میں چاند کی فضیلت سارے تاروں پر ۷؎ اور علماء نبیوں کے وارث ہیں ۸؎ پیغمبروں نے کسی کو دینارو درہم کا وارث نہ بنایا انہوں نے صرف علم کا وارث بنایا تو جس نے علم اختیار کیا اس نے پورا حصہ لیا ۹؎ اسے احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ترمذی نے ان کا نام قیس ابن کثیر بتایا۔ |
۱؎ دمشق شام کا دارالخلافہ ہے۔کثیر ابن قیس تابعی ہیں،حضرت ابوالدرداء کے صحبت یافتہ ہیں۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ اس طالب علم نے متن حدیث سن لیا تھا اس شوق میں یہاں آئے کہ صحابی کے منہ سے سنوں تاکہ برکت اور زیادتی یقین حاصل ہو۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے متن حدیث نہیں سنا تھا اجمالًا پتہ لگا تھا کہ حضرت ابوالدرداء فلاں بارے میں حدیث بیان فرماتے ہیں۔چونکہ مدینہ کے معنی مطلقًا شہر کے ہیں اس لیئے مدینۃ الرسول فرمایا،یعنی میں مدینہ منورہ سے آیا ہوں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ طلب علم کے لیئے سفر بزرگوں کی بلکہ نبیوں کی سنت ہے۔موسیٰ علیہ السلام طلب علم کے لئے بہت دراز سفر کرکے خضر علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے. دوسرے یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فقط الرسول کہہ سکتے ہیں،جب کہ علامت سے معلوم ہوا کہ یہاں حضور مراد ہیں رب تعالٰی فرماتا ہے:"یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ" اور فرماتا ہے:"مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ" اسے ناجائز کہنا بے دلیل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع