30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
210 -[13] وَعَن جرير قَالَ: (كُنَّا فِي صدر النهارعند رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: (يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ)إِلَى آخَرِ الْآيَةِ (إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رقيبا)وَالْآيَةُ الَّتِي فِي الْحَشْرِ (اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ)تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ حَتَّى قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجَزُ عَنْهَا بل قد عجزت قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْء» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جریر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم صبح سویرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم آئی جو ننگی اور کمبل پوش تھی تلواریں گلے میں ڈالے تھے۲؎ ان میں عام بلکہ سارے ہی قبیلہ مضر سے تھے ان کا فاقہ دیکھ کر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ اڑ گیا ۳؎ لہذا اندرتشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان و تکبیر کہی پھر نماز پڑھی پھرخطبہ فرمایا ۴؎ ارشاد فرمایا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا آخر آیت رقیبًا تک ۵؎ اور وہ آیت تلاوت فرمائی جو سورۂ حشر میں ہے اﷲ سے ڈرو ہر شخص غورکرے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ۶؎ انسان اپنے دینار درہم اپنے کپڑے گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتی کہ فرمایا کھجور کی کھانپ ہی سہی ۷؎ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری تھیلی لائےجس کے وزن سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک ہی گیا ۸؎ پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے کپڑے کے ڈھیر دیکھے ۹؎ تاآ نکہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور دیکھا کہ چمک رہا ہے گویا سونے کی ڈلی ہے ۱۰؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کار بند ہوں ۱۱؎ ان کا ثواب کم ہوئے بغیر اور جو اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرے اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں اس کے بغیر ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۱۲؎ (مسلم) |
۱؎ آپ کا نام جریر ابن عبداﷲ بَجَلی ہے،مشہورصحابی ہیں،نہایت حسین اور خوش اخلاق تھے،عمر فاروق آپ کو یوسف علیہ السلام سےتشبیہ دیتے تھے،حضور کی وفات کے سال اسلام لائے۔بعض روایات میں ہے کہ وفات شریف سے چالیس دن پہلے ایک زمانہ کوفہ میں رہے (مقام قرقیسیا میں)، ۵۱ ھ میں و فات ہوئی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
۲؎ یعنی غربت کی وجہ سے ان کے پاس سوائے ایک کمبل کے تن ڈھکنے کو کوئی کپڑا نہ تھا اس کے باوجود غزوے اور جہاد کے شوقین تھے کہ تلواریں ہر ایک کے پاس تھیں۔
۳؎ یعنی ان کی فقیری سے خاطر اقدس کو بہت ملال پہنچا جس کے آثار چہرۂ انور پر نمودار ہوئے کیوں نہ ہو،بے نواؤں فقیروں کے غم خوار جو ہیں،ہم غریبوں پر وہ رنج نہ کریں تو کون کرے۔شعر
من از بے نوائی نیم روئے زرد غم بے نوایاں رُخم زرد کرد
یہ اس آیت کی تفسیر ہے"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"۔
۴؎ یہ وعظ لوگوں کو خیرات پر رغبت دینے کے لئے تھا،اس وقت دولت خانۂ اقدس میں کچھ ہوگا نہیں۔
۵؎ یہ آیت حسب موقعہ تلاوت فرمائی،یعنی سارے امیروفقیر بھائی ہیں کہ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔امیر کو چاہیئے کہ فقیر کی مدد کرے۔مرقاۃ میں اس جگہ ہے کہ حضرت حوّا کے بیس بار میں چالیس بچے ہوئے بیس لڑکے بیس لڑکیاں۔
۶؎ یعنی قیامت کے لئے نیک اعمال خصوصًاصدقہ و خیرات کیا کرو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع