30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
208 -[11] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لفظ بولتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ سمجھ لیا جائے ۱؎ اور جب کسی قوم پر تشریف لاتے اور انہیں سلام فرماتے تو تین بار سلام کرتے ۲؎ (بخاری) |
۱؎ لفظ سے مراد پوری بات ہے،یعنی مسائل بیان کرتے وقت ایک ایک مسئلہ تین تین بار فرماتے تاکہ لوگوں کے ذہن میں اتر جائے ہر کلام مراد نہیں۔اسی لیئے صاحب مشکوٰۃ اس حدیث کو"کتاب العلم"میں لائے۔
۲؎ ایک سلام اجازت حاصل کرنے کا،دوسرا ملاقات کا،تیسرا رخصت کا،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور بوقت ملاقات ایک سلام کرتے تھےکیونکہ وہاں صرف ملاقات کا سلام مراد ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ گھر میں داخلے کی اجازت کے لئے شور نہ مچائے،بہت دروازہ نہ پیٹے،بلکہ صرف یہ کہے السلام علیکم آجاؤں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ آنے اور جانے والا سلام کرے اگرچہ بڑا ہو۔
|
209 -[12] عَن أبي مَسْعُود الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي فَقَالَ مَا عِنْدِي فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مثل أجر فَاعله» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا کہ میرا اونٹ تھک رہا ہے مجھےسواری دیجئے فرمایا میرے پاس نہیں۲؎ ایک نے کہا یارسول اﷲ میں اسے وہ آدمی بتاتا ہوں جو اسے سواری دے دے تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھلائی پر رہبری کرے اسےکرنے والے کی طرح ثواب ہے۳؎ (مسلم) |
۱؎ آپ کا نام عقبہ ابن عمرو ہے،کنیت ابو مسعود انصاری ہے،بدری ہیں،یعنی غزوۂ بدر میں شریک ہوئے یا اس بستی میں کچھ روز رہے،عقبہ ثانیہ کی بیعت میں شریک تھے،کوفہ میں قیام رہا،خلافت علی مرتضیٰ میں وفات ہوئی۔
۲؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ضرورت کے وقت مانگنا جائزہے خصوصًا حضور سے مانگنا ہر ایک کے لئے فخر ہے۔دوسرے یہ کہ جب چیز موجود نہ ہو تو سائل کو انکارکرنا بخل نہیں۔حضورخلق الٰہی میں بڑے سخی اور داتا ہیں لیکن اس وقت منع فرمانا اظہار مسئلہ کے لئے ہے کہ قرض لے کر سخاوت نہ کرو۔وہ جو روایات میں ہے کہ حضور نے کبھی "نہ" نہیں فرمایا۔اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ موجود چیز سے منع نہیں فرمایا یا یہ نہیں فرمایا کہ تجھے نہیں دیں گے لہذا احادیث متعارض نہیں۔
۳؎ یعنی نیکی کرنے والا،کرانے والا،بتانے والا،مشورہ دینے والا سب ثواب کےمستحق ہیں لہذا تمہیں بھی ثواب ملے گا۔
|
210 -[13] وَعَن جرير قَالَ: (كُنَّا فِي صدر النهارعند رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: (يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ)إِلَى آخَرِ الْآيَةِ (إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رقيبا)وَالْآيَةُ الَّتِي فِي الْحَشْرِ (اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ)تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ حَتَّى قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجَزُ عَنْهَا بل قد عجزت قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْء» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جریر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم صبح سویرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم آئی جو ننگی اور کمبل پوش تھی تلواریں گلے میں ڈالے تھے۲؎ ان میں عام بلکہ سارے ہی قبیلہ مضر سے تھے ان کا فاقہ دیکھ کر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ اڑ گیا ۳؎ لہذا اندرتشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان و تکبیر کہی پھر نماز پڑھی پھرخطبہ فرمایا ۴؎ ارشاد فرمایا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا آخر آیت رقیبًا تک ۵؎ اور وہ آیت تلاوت فرمائی جو سورۂ حشر میں ہے اﷲ سے ڈرو ہر شخص غورکرے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ۶؎ انسان اپنے دینار درہم اپنے کپڑے گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتی کہ فرمایا کھجور کی کھانپ ہی سہی ۷؎ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری تھیلی لائےجس کے وزن سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک ہی گیا ۸؎ پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے کپڑے کے ڈھیر دیکھے ۹؎ تاآ نکہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور دیکھا کہ چمک رہا ہے گویا سونے کی ڈلی ہے ۱۰؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کار بند ہوں ۱۱؎ ان کا ثواب کم ہوئے بغیر اور جو اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرے اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں اس کے بغیر ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۱۲؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع