30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
206 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فضلوا وأضلوا» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ علم کھینچ کر نہ اٹھائے گا کہ بندوں سے کھینچ لے بلکہ علماء کی وفات سےعلم اٹھائے گا ۱؎ حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے گمراہ ہوں گے گمراہ کریں گے ۲؎(بخاری،مسلم) |
۱؎ یہ حدیث کا تتمّہ ہے جس میں فرمایا گیا کہ قریبِ قیامت علم اُٹھ جائیگا،جہالت پھیل جائے گی،یعنی اس کے اٹھنے کا ذریعہ نہ ہوگا کہ لوگ پڑھا ہوا بھول جائیں گے،بلکہ علماء وفات پاتے رہیں گےاور بعد میں دوسرے علماء پیدا نہ ہوں گے جیساکہ اب ہورہا ہے کہ ایک خلقت انگریزی کے پیچھے پھر رہی ہے،دینِ رسول اللہ یتیم ہو کر رہ گیا۔علم سے علمِ دین مراد ہے۔
۲؎ پیشوا سے مرادقاضی،مفتی،امام اور شیخ ہیں جن کے ذمّے دینی کام ہوتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ دینی عہدے جاہل سنبھال لیں گے اور اپنی جہالت کا اظہار ناپسندکریں گے۔مسئلہ پوچھنے پر یہ نہ کہیں گے کہ ہمیں خبر نہیں بلکہ بغیر علم گھڑکر غلط مسئلے بتائیں گے اس کا انجام ظاہرہے۔بےعلم طبیب مریض کی جان لیتا ہے اور جاہل مفتی اور خطیب ایمان بربادکرتے ہیں۔
|
207 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن شَقِيق: كَانَ عبد الله يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذكرتنا كُلِّ يَوْمٍ قَالَ أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِهَا مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا |
روایت ہے حضرت شقیق سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ عبداﷲ ابن مسعود ہرجمعرات کو وعظ فرماتے تھے۲؎ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے ابو عبدالرحمن میری تمنا یہ ہے کہ آپ روزانہ وعظ فرماتے فرمایا مجھے اس سے رکاوٹ یہ ہے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ تمہیں ملال میں ڈال دوں۳؎ میں تمہارا ویسے ہی لحاظ رکھتا ہوں جیسےحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا وعظ میں لحاظ رکھتے تھے ملال کے خوف سے۴؎(بخاری،مسلم) |
۱؎ آپ کا نام شقیق ابن ابی سلمہ ہے،کنیت ابو وائل ہے،قبیلہ نبی اَسد سے ہیں،عظیم الشان تابعی ہیں،حضور کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کرسکے اکابرصحابہ سے ملاقات کی،جیسے حضرت عمرسید نا ابن مسعود کے خاص ساتھیوں میں سے ہیں۔حجاج ابن یوسف کے زمانہ میں وفات پائی رضی اللہ عنہم۔
۲؎ اس سےمعلوم ہوا کہ نیک اعمال کے لئے دن اور وقت مقرر کرنا شرک یا حرام نہیں سنت صحابہ ہے۔اسی لیے اب دینی مدرسوں کی امتحان وتعطیل کے لئے دن اور مہینے اورتعلیم کے لئے اوقات مقرر کیے جاتے ہیں لہذا میلاد شریف،فاتحہ،عرس وغیرہ کے لئے دن مقرر کرنا جائز ہیں اسے حرام کہنا غلطی ہے۔مرقاۃ نے اسی جگہ فرمایا کہ حضرت ابن مسعود نے جمعرات کو وعظ کے لئے اس لیئے منتخب کیا کہ یہ دن جمعہ کا پڑوسی ہے اس کی برکت جمعہ تک پہنچے گی۔بعض لوگ ہرجمعرات کو میلاد شریف اور مُردوں کی فاتحہ کرتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
۳؎ یعنی روزانہ وعظ سے تم اکتا جاؤ گے اور یہ ذوق شوق جاتارہے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ اتنا لمبا وعظ بھی نہ کہا جائے کہ لوگ گھبرا جائیں تاکہ علم و وعظ کی بے قدری نہ ہو۔
۴؎ یعنی حضور بھی ہمیں ہر وقت اور ہر روز وعظ نہیں سناتے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جو عالم یا شیخ لوگوں کے سامنے ہر دم اﷲ اﷲ ہی کرے وہ مکار ہے۔حضور کی مجلس پاک میں دنیوی تذکرے بھی ہوتے تھے۔
|
208 -[11] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لفظ بولتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ سمجھ لیا جائے ۱؎ اور جب کسی قوم پر تشریف لاتے اور انہیں سلام فرماتے تو تین بار سلام کرتے ۲؎ (بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع