30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ اوّلیت اضافی ہے نہ کہ حقیقی یعنی ریاکاروں میں سے پہلے ریا کار شہید کا فیصلہ ہوگا۔لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ پہلے حساب نماز کا ہوگا یا پہلے ظلمًا قتل کا حساب ہوگا۔عبادات میں نماز کا،معاملات میں قتل کا،ریا میں ایسےشہید کا فیصلہ پہلے ہے۔شہیدسے وہ مرادہے جو اﷲ کی راہ میں مارا گیا۔
۲؎ یعنی میں نے تجھے اندرونی بیرونی کروڑوں نعمتیں دیں تونے کون سی نیکی کی۔معلوم ہوا کہ نیکیاں رب کے انعام کا شکریہ بھی ہیں۔
۳؎ یعنی تیرے جہاد اور شہادت کا عوض یہ ہوگیا کہ لوگوں نے تیری واہ واہ کردی کیونکہ تو نے اسی نیت سے جہاد کیا تھا نہ کہ خدمت اسلام کیلئے۔معلوم ہوا کہ اگر غازی میں اخلاص ہوتو لوگوں کی واہ واہ سے ثواب کم نہیں ہوگا۔یہ تو رب کی طرف سے دنیوی انعام ہے۔صحابہ کرام اور خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں جہاں میں واہ واہ ہورہی ہے۔خیال رہے کہ فقط غنیمت یا ملک حاصل کرنے کیلئے جہاد کرنے کا انجام بھی یہی ہے۔جہاد صرف اﷲ رسول کی رضا کے لئے چاہئے۔
۴؎ یعنی نہایت ذلت کے ساتھ،مرے ہوئے کتے کی طرح ٹانگ سے گھسیٹ کر کنارۂ جہنم سے نیچے پھینکا جائے گا۔جہنم کی گہرائی آسمان و زمین کے فاصلہ سےکروڑوں گناہ زیادہ ہے اﷲ کی پناہ۔
۵؎ تیری یہ ساری محنت خدمت دین کے لئے نہ تھی بلکہ علم کے ذریعہ عزت اور مال کمانے کی تھی وہ تجھے حاصل ہوگئے،ہم سے کیا چاہتا ہے،اسی حدیث کو دیکھتے ہوئے،بعض علماءنے اپنی کتابوں میں اپنا نام بھی نہ لکھا اورجنہوں نے لکھا ہے وہ ناموری کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کی دعا حاصل کرنے کے لئے۔
۶؎ معلوم ہوا کہ جیسے اخلاص والی نیکی جنت ملنے کا ذریعہ ہے ایسے ہی ریا والی نیکی جہنم اور ذلت حاصل ہونے کا سبب۔
۷؎ اس جگہ چار مسئلے یاد رکھنے چاہئیں:ایک یہ کہ یہاں ریاکارشہید،عالم اور سخی ہی کا ذکر ہوا اس لیئے کہ انہوں نے بہترین عمل کیئے تھے جب یہ عمل ریا سے برباد ہوگئے تو دیگر اعمال کا کیا پوچھنا،ریا کے حج و زکوۃ اور نماز کا بھی یہی حال ہے۔دوسرے یہ کہ بعض ریا کار وہ ہیں جو ریا ہی کے لئے نیکیاں کرتے ہیں اگر ان کی تعریف نہ ہو تو نیکی کرتے ہی نہیں،بعض وہ ہیں کہ ریا کے لئے اچھی طرح عمل کریں تنہائی میں معمولی،بعض وہ ہیں جو خلوت و جلوت میں عمل یکساں کریں مگر نام نمود سے خوش ہوں،یہاں پہلی قسم کا ریا کار مراد ہے، دوسری دوقسم کے ریا کار اصل نیکی کا ثواب پائیں گے مگر ناقص۔تیسرے یہ کہ اس حدیث میں قانون اور رب کے عدل کا ذکر ہے فضل دوسری چیزہے،رب فرماتا ہے:"فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ"لہذا یہ حدیث معافی کی آیات و احادیث کے خلاف نہیں۔شعر:
عدل کرے تو تھر تھر کانپیں اونچی شانوں والے فضل کرے تو بخشے جانویں مجھ جیسے منہ کالے
چوتھے یہ کہ مؤمن کی یہ ساری سزائیں تنہائی میں ہوں گی،علانیہ نہیں،اﷲ اسے ذلت اور رسوائی سے بچائے گا،ذلت و رسوائی صرف کافروں کے لیئے ہوگی جیساکہ آیت قرآنیہ سے ثابت ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ریا کے خوف سے عمل نہ چھوڑ دےعمل کیے جائے کبھی اخلاص بھی نصیب ہو ہی جائے گا۔مکھیوں کے ڈر سے کھانا نہ چھوڑدو۔
|
206 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فضلوا وأضلوا» |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ علم کھینچ کر نہ اٹھائے گا کہ بندوں سے کھینچ لے بلکہ علماء کی وفات سےعلم اٹھائے گا ۱؎ حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے گمراہ ہوں گے گمراہ کریں گے ۲؎(بخاری،مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع