30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالم میں علم بھرجائے گا۔امام اعظم کی پیدائش کوفہ شہر ۸۰ھ میں ہوئی یعنی تمام آئمہ مجتہدین سے پہلے ۷۰ سال عمر شریف پاکر ۱۵۰ھ میں بغدادمیں وفات ہوئی اوربغدادکے قبرستان خیرزان میں دفن ہوئے،آپ کی قبر شریف زیارت گاہ خاص وعام ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ آپ کی قبر قبول دعا کےلیے اکسیر ہے،آپ نے بہت صحابہ کا زمانہ پایاجن میں سے چارصحابہ سےملاقات کی انس ابن مالک،عبداﷲ ابن ابی اوفیٰ،سہل ابن سعدساعدی،ابوطفیل عامرابن واصلہ۔آپ حضرت حماد کے شاگرد اور حضرت امام جعفر صادق کےتلمیذخاص ہیں کہ دوسال تک آپ کی صحبت میں رہے۔جلیل القدرتابعی ہیں،آپ اسلام کے سب سے پہلےمجتہداعظم ہیں،آپ کامذہب دنیا میں بہت پھیلا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ سارے جنتیوں میں دوتہائی جنتی حضور کی امت ہیں اور سارے مسلمانوں میں دو تہائی مؤمن حنفی ہیں،اکثراولیاءاﷲحنفی ہوئے،چالیس سال عشاء کے وضوءسے فجرکی نمازپڑھی،ہرشب پورا قرآن ایک رکعت میں ختم کرتے تھے،شب میں آپ کے رونے کی آواز گھر سے باہر سنی جاتی تھی،آپ کی وفات کے وقت سات ہزار قرآن مجیدختم ہوئے، سارےمحدثین وفقہاءبالواسطہ یابلاواسطہ امام اعظم کے شاگرد ہیں۔اس کی پوری تحقیق کے لیے ہماری کتاب"جاء الحق"حصہ دوم دیکھو۔
وَغَيْرِهِمْ وَقَلِيلٌ مَا هُوَ. وَإِنِّي إِذَا نَسَبْتُ الْحَدِيثَ إِلَيْهِمْ كَأَنِّي أَسْنَدْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم؛لأَنهم قدفرغوا مِنْهُ،وَأَغْنَوْنَا عَنْهُ. وَسَرَدْتُ الْكُتُبَ وَالْأَبْوَابَ كَمَا سَرَدَهَا،وَاقْتَفَيْتُ أَثَرَهُ فِيهَا،وَقَسَّمْتُ كُلَّ بَابٍ غَالِبًا عَلَى فُصُولٍ ثَلَاثَةٍ: أَوَّلُهَا: مَا أَخْرَجَهُ الشَّيْخَانِ أَوْ أَحَدُهُمَا،وَاكْتَفَيْتُ بِهِمَا وَإِنِ اشْتَرَكَ فِيهِ الْغَيْرُ؛لِعُلُوِّ دَرَجَتِهِمَا فِي الرِّوَايَةِ. وَثَانِيهَا: مَا أَوْرَدَهُ غَيْرُهُمَا مِنَ الْأَئِمَّةِ
ترجمہ:
اور اُن کے ماسوا مگر ماسوا تھوڑے ہیں ۱؎ اور مَیں نے جب ان بزرگوں کی طرف حدیث منسوب کردی تو گویا حضور صلی الله علیہ وسلم ہی کی طرف اسنادکردی۲؎ کیونکہ ان بزرگوں نے اسناد سے فارغ ہو کر ہم کو بے نیاز کردیا۳؎ اور مَیں نے کتابیں اور باب ویسے ہی مرتب کئے جیسے انہوں نے کئے تھے۔اس میں مَیں اُنہی کے قدم پر چلا۴؎مَیں نے اکثر ہر باب کو تین فصلوں پر تقسیم کیا۵؎ پہلی فصل میں وہ احادیث جنہیں شیخین یا اُن میں سے ایک نے روایت کیا مَیں نے انہی دونوں پر کفایت کی اگرچہ اس کی روایت میں دوسرے بھی شریک ہوں شیخین کی بلندیٔ درجہ کے سبب ۶؎ دوسری فصل میں وہ
تشریح:
۱؎ یعنی وہ حدیثیں جو مذکورہ بزرگوں کے علاوہ کی ہیں وہ تھوڑی ہیں۔"ھو" کا مرجع غیرھم ہے۔
۲؎ سبحان اﷲ!کیا ایمان افروز بات کہی،مطلب یہ ہے کہ میں مشکوٰۃ میں حدیثوں کا صرف متن بیان کرونگا نہ کہ اسنادکیونکہ میں آخر میں کہہ دونگا کہ اسےمسلم بخاری یا فلاں کتاب نے روایت کیا،میری یہ نسبت گویا اسناد ہے۔کسی حدیث کوان بزرگوں کا قبول فرمالینا اس کے صحیح قوی ہونے کی دلیل ہے،یہی ہم حنفی کہتے ہیں کہ کسی حدیث کو امام ابوحنیفہ کا قبول فرمالینا اور اس پر عمل کرلینا اس حدیث کے قوی ہونے کی کھلی ہوئی دلیل ہے،امام صاحب کی طرف حدیث کی نسبت گویا حضور کی طرف نسبت ہے،بلکہ امام صاحب کی کوئی حدیث ضعیف نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ زمانہ حضور کے زمانہ سے بہت ہی قریب ہے۔اس وقت اسنادوں میں ضعیف راوی شامل نہیں ہوئے تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع