30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ دین و دنیا کی ساری نعمتیں علم،ایمان،مال،اولاد وغیرہ دیتا اﷲ ہے بانٹتے حضور ہیں جسے جو ملا حضور کے ہاتھوں ملا،کیونکہ یہاں نہ اﷲ کی دین میں کوئی قیدہے نہ حضور کی تقسیم میں۔لہذا یہ خیال غلط ہے کہ آپ صرف علم بانٹتے ہیں ورنہ پھر لازم آئے گا کہ خدا بھی صرف علم ہی دیتا ہے۔خیال رہے کہ حضور کی دَین یکساں ہے مگر لینے والوں کے لینے میں فرق ہے۔بجلی کاپاور یکساں آتا ہے مگر مختلف طاقتوں کے بلب بقدر طاقت پاور کھینچتے ہیں۔پھر جیسا بلب کا شیشہ ویسا اس کا رنگ حنفی شافعی ایسے ہی قادری چشتی ہیں مختلف رنگ کے مگر سب میں پاور ایک ہی ہے ایک ہی سمندر سے تمام دریا بنے مگر راستوں کے لحاظ سے ان کے نام الگ الگ ہوگئے ایسے ہی قادری چشتی وغیرہ ان سینوں کے نام ہیں جن سے یہ فیض آرہا ہے۔
|
201 -[4] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا».رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح مختلف کانیں ہیں ۱؎ جو کفر میں اعلٰی تھے وہ اسلام میں بھی اعلٰی ہیں جب کہ عالم بن جائیں ۲؎(مسلم) |
۱؎ یعنی صورت میں تمام انسان یکساں مگر سیرت،اخلاق اور صفات میں مختلف جیسے ظاہری زمین یکساں اس میں کانیں مختلف،نیک سے نیکی ظاہر ہوگی اور بد سے بدی۔
۲؎ یعنی جو زمانہ کفر میں عمدہ اخلاق،بہترین صفات کی وجہ سے اپنے قبیلوں کے سردار تھے جب وہ مسلمان ہو کر علم سیکھ لیں تو مسلمانوں میں سردار ہی رہیں گے،اسلام سے عزت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں۔وہ لوگ اسلام سے پہلے کیچڑ میں لتھڑے ہوئے لعل تھے۔مسلمان ہو کر عالم بنے،دھل کر صاف ہوگئے۔اس سے معلوم ہوا کہ نومسلموں کو حقیر جاننا بہت برا ہے۔اورکفار کا سردارمسلمان ہوکرمسلمانوں کا سردار ہی رہے گا اسے گرایا نہ جائے گا۔
|
202 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَة فَهُوَ يقْضِي بهَا وَيعلمهَا) |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کے سوا کسی میں رشک جائز نہیں ۱؎ ایک شخص جسے اﷲ مال دے تو اسے اچھی جگہ خرچ پر لگادے دوسرا وہ شخص جسے اﷲ علم دے تو وہ اس سے فیصلے کرے اور لوگوں کو سکھائے۲؎(بخاری،مسلم) |
۱؎ کسی نعمت والے پرجلنا اور اس کی نعمت کا زوال،اپنے لیئے حصول چاہنا حسد ہے،جوبہت بڑاعیب ہے جس سے شیطان مارا گیا مگر دوسروں کی سی نعمت اپنے لیئے بھی چاہنا غبطہ(رشک)ہےحسد مطلقًا حرام ہے،غبطہ دو جگہ جائز ہے یہاں حسدبمعنی غبطہ ہے۔
۲؎ یعنی مالدارسخی جسے خدا اچھے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق دے ایسے ہی بافیض عالم دین جس کے علم سے لوگ فائدہ اٹھائیں قابل رشک ہے۔سبحان اﷲ !بعض علماء کے علم اوربعض سخیوں کے مال سے لوگ تاقیامت فائدہ اٹھاتے ہیں۔اﷲ تعالٰی فقیر کی اس کتاب سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔(آمین)
خیال رہے کہ نیکی کی تمنا کرنے والا ان شاءاﷲ تعالٰی قیامت میں نیکوں کے ساتھ ہی ہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع