30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
199 -[2] وَعَن سَمُرَة بن جُنْدُب وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب اور مغیرہ ابن شعبہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو میری طرف سے ایسی بات نقل کرے جسےجھوٹ جانتا ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۲؎(مسلم) |
۱؎ سمرہ قبیلہ بنی نزار سے ہیں،انصار کے حلیف ہیں،بہت احادیث کے حافظ ہیں، ۵۹ھ میں بصرے میں وفات پائی۔حضرت مغیرہ بنی ثقیف سے ہیں،خندق کے سال اسلام لائے،ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آگئے،امیر معاویہ کی طرف سے کوفہ کے حاکم رہے،ستر سال عمر ہوئی، ۵۰ھ کوفہ میں وفات ہوئی۔
۲؎ یعنی حدیث گھڑنا بھی گناہ اور دیدہ ودانستہ موضوع حدیث بیان کرنا بھی گناہ،بلکہ جس حدیث کے متعلق موضوع ہونے کا گمان غالب ہواسے بھی بیان نہ کرے فقط موضوعیت کا وہم کافی نہیں،ہاں اس کی موضوعیت بتا کر ذکر کرنا جائز ہے تاکہ لوگ بچیں۔
|
200 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهِ يُعْطِي» |
روایت ہے حضرت معاویہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ جس کا بھلا چاہتا ہے اسے دین کا فقیہ بنادیتا ہے۲؎ میں بانٹنے والا ہوں اﷲ دیتا ہے۳؎ (بخاری،مسلم) |
۱؎ آپ کا نام شریف معاویہ ابن ابو سفیان ابن حرب ابن امیہ ابن عبدالشمس ابن عبدمناف ہے،آپ پانچویں پشت یعنی عبد المناف میں حضور سے مل جاتے ہیں،آپ کی والدہ ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ ابن عبدالشمس ابن عبدمناف ہیں۔آپ صلح حدیبیہ کے سال اسلام لائے،مگر فتح مکہ کے دن اسلام ظاہر کیا۔حضور کے سالے ہیں،کاتب وحی ہیں،عہد فاروقی میں شام کے حاکم بنے،چالیس سال وہاں کے ہی حاکم رہے،امام حسن ابن علی رضی اللہ عنہما نے آپ کے حق میں خلافت سے دست برداری فرما کر صلح فرمالی۔آپ کی وفات۴ رجب ۶۰ھ لقوہ کی بیماری سے ہوئی ۷۸ سال عمر پائی،آپ کے پاس حضور کا تہبند،چادر شریف،قمیض مبارک اور کچھ بال و ناخن شریف تھے وصیت کی تھی کہ مجھے اس لباس شریف میں کفن دینا اور میرے منہ اور ناک میں ناخن اور بال شریف رکھ دینا،آپ کے پورے حالات شریف ہماری کتاب امیر معاویہ میں دیکھو۔
۲؎ یعنی اسے دینی علم،دینی سمجھ ا ور دانائی بخشتاہے۔خیال رہے کہ فقہ ظاہری شریعت ہے اور فقہ باطنی طریقت اور حقیقۃً یہ حدیث دونوں کو شامل ہے۔اس حدیث سے دو مسئلے ثابت ہوئے:ایک یہ کہ قرآن و حدیث کے ترجمے اور الفاظ رٹ لینا علم دین نہیں،بلکہ انکا سمجھنا علم دین ہے۔یہی مشکل ہے اسی کے لئے فقہاء کی تقلید کی جاتی ہے اسی وجہ سے تمام مفسرین و محدثین آئمہ مجتہدین کے مقلد ہوئے اپنی حدیث دانی پر نازاں نہ ہوئے رب فرماتا ہے:"مَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا"وہاں حکمت سے مراد فقہ ہی ہے۔قرآن و حدیث کے ترجمے تو ابوجہل بھی جانتا تھا۔دوسرے یہ کہ حدیث و قرآن کا علم کمال نہیں،بلکہ ان کا سمجھنا کمال ہے۔عالم دین وہ ہے جس کی زبان پر اﷲ اور رسول کا فرمان ہو اور دل میں ان کا فیضان،فیضان کے بغیر فرمان بیکار ہے،جیسے بجلی کی پاور کے بغیر فٹنگ بیکار۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع