30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
193 -[54] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا فليسن بِمَنْ قَدْ مَاتَ فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ. أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا أَفْضَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبَرَّهَا قُلُوبًا وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا اخْتَارَهُمُ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ وَلِإِقَامَةِ دِينِهِ فَاعْرِفُوا لَهُمْ فَضْلَهُمْ وَاتَّبِعُوهُمْ عَلَى آثَارِهِمْ وَتَمَسَّكُوا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ وَسِيَرِهِمْ فَإِنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْهَدْيِ الْمُسْتَقِيمِ.رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ۱؎ جو سیدھی راہ جانا چاہے وہ وفات یافتہ بزرگوں کی راہ چلے ۲؎ کہ زندہ پر فتنہ کی امن نہیں ۳؎ وہ بزرگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جو اس امت میں بہترین ۴؎ دل کے نیک علم کے گہرے اور تکلف میں کم تھے ۵؎ اﷲ نے انہیں اپنے نبی کی صحبت اور اپنے نبی کا دین قائم رکھنے کے لیے چن لیا۶؎ ان کی بزرگی مانو ان کے آثار قدم پر چلو بقدر طاقت ان کے اخلاق و سیرت کو مضبوط پکڑو کہ وہ سیدھی ہدایت پر تھے ۷؎(رزین) |
۱؎ یہ حدیث موقوف ہے نہ کہ مرفوع یعنی حضرت ابن مسعود صحابی کا اپنا فرمان ہے صحابی کے قول وفعل حدیث موقوف کہلاتے ہیں حضور کا قول و فعل حدیث مرفوع۔
۲؎ یہ ترجمہ نہایت اعلٰی ہے اشعۃ اللمعات نے اسی کو اختیار فرمایا اس میں تابعین سے خطاب ہے یعنی تا قیامت جو کوئی سیدھی راہ چلنا چاہے وہ صحابہ کی پیروی کرے خود قرآن و حدیث سے استنباط مسائل پر قناعت نہ کرے اسی لیئے مجتہدین آئمہ صحابہ کے پیرو ہیں اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں جن کی پیروی کرو ہدایت پاجاؤ گے اور قرآن کریم کی یہ آیت"صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیْھِمْ "خدایا ہمیں ان کی راہ چلا جن پر تو نے انعام کیا سب سے بڑے انعام والے صحابہ ہیں۔خیال رہے کہ یہاں زندوں سے مراد غیر صحابہ ہیں اور وفات پانے والوں سے سارے صحابہ زندہ ہوں یا وفات یافتہ۔جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے چونکہ اس وقت اکثر صحابہ وفات پاچکے تھے اس لیئے ایسا فرمایا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ مرے ہوئے کافروں کی اتباع کرنی چاہیئے،زندہ اولیاء،علماءبلکہ صحابہ کی بھی اتباع درست نہیں۔مرقاۃ نے فرمایا یہ کلام حضرت ابن مسعود نے انکسارًا فرمایا ورنہ اس وقت آپ اور تمام زندہ صحابہ قابل اتباع تھے۔
۳؎ یہاں زندہ سے موجودہ تابعین مراد ہیں کیونکہ صحابہ سے اﷲ رسول کا وعدہ جنت ہوچکا ہے رب نے فرمایا:"وَ اَلْزَمَہُمْ کَلِمَۃَ التَّقْوٰی"ا ور فرمایا "اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰی "اور فرمایا:" وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوۡقَ وَ الْعِصْیَانَ " جس سے پتہ لگا کہ رب نے صحابہ کے لیئے ایمان لازم کردیا یا ان کے دلوں میں کفر اور فسق سے نفرت پیدا فرمادی خصوصًا حضرت ابن مسعود کو تو جنت کی بشارت دی جاچکی تھی۔خیال رہے کہ مرتد صحابی نہیں رہتا،ارتداد سے صحابیت ختم ہوجاتی ہے۔
۴؎ یعنی جن کی وفات ایمان پر ہوچکی ان کی صحابیت پختہ ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ تمام اولیاء وعلماء ایک صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے،پھول کی صحبت میں تل مہک جاتا ہے،حضور کی صحبت میں دل کیوں نہ مہکے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"امیرمعاویہ" میں دیکھو،پھربعض صحابہ بعض سے افضل ہیں،رب فرماتا ہے:"لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ"الایہ ۔فتح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع